مہاجرین کے ایک لاکھ رشتہ داروں کے لیے جرمنی کے رہائشی ویزے | مہاجرین کا بحران | DW | 20.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے ایک لاکھ رشتہ داروں کے لیے جرمنی کے رہائشی ویزے

وفاقی جرمن وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ برس مختلف ملکوں میں ایسے ایک لاکھ پانچ ہزار افراد کو جرمنی کے رہائشی ویزے جاری کیے گئے، جن کے اہلِ خانہ یا انتہائی قریبی رشتہ دار پہلے ہی جرمنی میں مہاجرین کے طور پر رہتے ہیں۔

مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی میں مہاجرین کی تسلیم شدہ قانونی حیثیت کے حامل غیر ملکیوں کے اہل خانہ یا بہت قریبی رشتہ داروں کو گزشتہ برس جرمنی کے یہ رہائشی ویزے ایک نئی ریکارڈ تعداد میں جاری کیے گئے۔ برلن میں جرمن وزارت خارجہ نے بتایا کہ 2016ء میں ایسے جن ایک لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کو رہائش کے لیے جرمنی آنے کی قانونی اجازت دی گئی، ان کے پہلے سے جرمنی میں مقیم اقرباء ایسے تارکین وطن ہیں، جن میں سے کوئی بھی یورپی یونین کے کسی رکن ملک کا شہری نہیں ہے۔

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں 

اس کے برعکس 2015ء میں صرف قریب 70 ہزار غیر ملکیوں کو جب کہ اس سے بھی ایک برس قبل (2014ء) میں ایسے محض قریب 50 ہزار افراد کو مستقل سکونت کے لیے جرمنی آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 01:35

سربیا کی شدید سردی میں پھنسے بے گھر تارکین وطن

اہم بات یہ ہے کہ یہ غیر ملکی صرف وہ تھے، جو مسلمہ مہاجرین کے اہل خانہ ہونے کے باعث ’فیملی ری یونین‘ کے قانون کے تحت جرمنی آئے۔ اس تعداد میں وہ ہزارہا غیر ملکی باشندے شامل نہیں ہیں، جو 2016ء میں کسی جرمن شہری یا جرمنی میں رہنے والے یورپی یونین کے رکن کسی دوسرے ملک کے شہری کے ساتھ شادی کے نتیجے میں جرمنی آنے کے حقدار ٹھہرائے گئے۔

اس تناظر میں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ گزشتہ صرف دو برسوں (2015ء اور 2016ء) کے دوران مجموعی طور پر 1.5 ملین سے زائد تارکین وطن نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ ان 15 لاکھ سے زائد تارکین وطن میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، افغانستان اور عراق جیسے جنگ زدہ یا بدامنی کے شکار ممالک سے تھا۔ ان غیر ملکیوں میں سے اکثریت کی پناہ کی درخواستیں منظور کر لی گئی تھیں۔

جرمن وزارت خارجہ کے ذرائع نے ملکی اخبار ’دی وَیلٹ‘ کو بتایا، ’’2016ء کے دوران قریب 73 ہزار ایسے شامی اور عراقی شہریوں کو فیملی ری یونین کے زمرے میں رہائشی ویزے دیے گئے، جن کے قریبی عزیز پہلے ہی جرمنی میں بطور مہاجر ثانوی نوعیت کے قانونی تحفظ کے حامل غیر ملکی ہیں۔‘‘ یہ تعداد اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباﹰ تین گنا تھی، جب 2015ء میں ایسے 24 ہزار سے زیادہ ویزے جاری کیے گئے تھے۔

مبصرین کے مطابق جرمنی میں رہائش کے لیے فیملی ری یونین ویزوں کی یہ مجموعی سالانہ تعداد اگر کافی زیادہ ہو بھی گئی تو بھی یہ جرمن سیاستدانوں کی توقعات سے کم ہی رہی۔ اس لیے کہ وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند پارٹی سی ڈی یو ہی کے ایک سیاست دان نے تو یہ بھی کہا تھا کہ ان کی رائے میں گزشتہ برس شامی اور عراقی مہاجرین کے قریب 1.1 ملین رشتہ داروں کو ایسے جرمن ویزے دیے جا سکتے تھے۔

گزشتہ برس فروری میں جرمن پارلیمان نے ایک ایسی قانونی ترمیم کی منظوری بھی دے دی تھی، جس کے تحت ملک میں پناہ گزین مہاجرین کی قانونی حیثیت کے حامل غیر ملکیوں کے لیے اپنے اہل خانہ کو جرمنی بلانے کا عمل زیادہ مشکل بنا دیا گیا تھا۔ تب اس ترمیم شدہ قانون پر مہاجرین کے حقوق کے لیے کوشاں بہت سی ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں نے شدید تنقید بھی کی تھی۔

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

Audios and videos on the topic