1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کے اہل خانہ کی جرمنی آمد انضمام کے لیے ضروری‘

جرمنی میں پروٹسٹنٹ کلیسا کی کونسل کے سربراہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہاجرین کے اہل خانہ کو جرمنی لانے کے قوانین آسان بنائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مہاجرین کے اہل خانہ کی آمد ان کے سماجی انضمام کے لیے ضروری ہے۔

جرمن پروٹسٹنٹ چرچ کونسل کے سربراہ ہائنرش بیڈفورڈ شڑوہم نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ ملک کی نئی وفاقی حکومت مہاجرین کے اہل خانہ کی جرمنی آمد کے بارے میں قانون سازی کرتے وقت کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے۔

جرمنی: سیاسی پناہ کے نئے ضوابط کے سات اہم نکات

فرانس: پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کے خلاف زیادہ سخت قوانین

ایک مقامی جرمن اخبار کو گیارہ نومبر بروز ہفتہ دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بیڈفورڈ شڑوہم کا کہنا تھا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ مہاجرین کے اہل خانہ کی جرمنی آمد ان تارکین وطن کے معاشرتی انضمام کے لیے بہت ضروری ہے۔ اسی وجہ سے ہم اس نکتے پر بہت زیادہ زور دے رہے ہیں۔‘‘

جرمنی میں ستمبر کے وفاقی انتخابات کے بعد چانسلر میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور اس کی ہم خیال کرسچن سوشل یونین دو دیگر جماعتوں ایف ڈی پی اور گرین پارٹی کے ساتھ مل کر نئی مخلوط حکومت بنانا چاہتی ہیں۔ ان جماعتوں کے مابین آئندہ ملکی حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات جاری ہیں جن میں تارکین وطن اور مہاجرین کا بحران کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

جرمنی میں پروٹسٹنٹ کلیسا کی نمائندہ اعلیٰ ترین شخصیت بیڈفورڈ شڑوہم نے انہی مذاکرات کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے نئی وفاقی حکومت میں شامل ممکنہ اتحادی جماعتوں سے کہا کہ ’مذاکرات کے دوران یہ بات پیش نظر رکھی جائے کہ یہ معاملہ حقیقی انسانوں سے متعلق ہے اور اس بارے میں فیصلے کرتے وقت ذمے دارانہ طرز عمل اختیار کیا جانا چاہیے‘۔

ہائنرش بیڈفورڈ شڑوہم وفاقی جرمن ریاست باویریا سے تعلق رکھنے والے ایک بشپ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’فیملی ری یونیفیکیشن‘ کی حمایت اور وکالت صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی واقعات کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے اس موقف کی وضا‌‌حت یو‌ں کی، ’’جب لوگ اپنے اپنے واقعات لے کر ذاتی طور پر میرے پاس آتے ہیں، تو یہ بات محض اعداد و شمار ہی کی نہیں رہتی بلکہ میرے لیے ایسے انسان اپنے اپنے حالات و واقعات کی مجسم مثالیں ہوتے ہیں۔‘‘

یونان: پاکستانیوں سمیت کئی تارکین وطن کی ترکی واپسی

جرمنی: پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے؟

DW.COM