1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کے اہل خانہ سے متعلق جرمن قوانین غیر آئینی ہیں‘

یورپی یونین نے جرمنی اور بعض دیگر یورپی ممالک کی جانب سے مہاجرین کے اپنے اہل خانہ کو نہ بلا سکنے کے قوانین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ضوابط ممکنہ طور پر انسانی حقوق کے منافی اور غیر آئینی ہیں۔

نیوز ایجنسی ای پی ڈی کی سٹراسبُرگ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق جرمنی اور بعض دیگر ممالک میں مہاجرین کے اہل خانہ کو ان ممالک میں بلا سکنے کے نئے اور سخت تر قوانین کو یورپی یونین کے انسانی حقوق کے کمشنر نیلز موئژنیئکس نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جرمنی میں نئی زندگی (2): کسے پناہ ملے گی اور کسے جانا ہو گا؟

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

جرمنی اور چند دیگر یورپی ممالک نے تسلیم شدہ مہاجرین کے لیے اپنے عزیز و اقارب کو قانونی طریقے سے میزبان ممالک میں بلانے کے قوانین میں کافی سختی کر دی ہے۔ پیر کے روز سٹراسبُرگ میں انہیں قوانین کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے موئژنیئکس کا کہنا تھا کہ کئی یورپی ممالک نے اس حوالے سے جو سخت قوانین متعارف کرائے ہیں، وہ نہ صرف انسانی حقوق کے منافی ہیں بلکہ بادی النظر میں غیر قانونی بھی ہیں۔

یونین کے رکن ممالک میں مہاجرین کے اہل خانہ کے حوالے سے قوانین بھی مختلف ہیں لیکن اس کے علاوہ یہ بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ اپنے اہل خانہ کو بلانے کی خواہش رکھنے والے کسی تارک وطن کو خود کس حیثیت میں پناہ دی گئی ہے۔

مثال کے طور پر جرمنی میں تسلیم شدہ مہاجر اور ثانوی حیثیت میں تحفظ کے حامل کسی مہاجر کے لیے اپنے اہل خانہ کر جرمنی بلا سکنے کے مختلف قوانین ہیں۔ مارچ سن 2016 میں جرمن پارلیمان نے مہاجرین کے حوالے سے جو نئے قوانین متعارف کرائے تھے، ان کے مطابق ثانوی تحفظ رکھنے والے غیر ملکی اپنے اہل خانہ کو دو سال تک جرمنی نہیں بلا سکتے۔

انسانی حقوق کے یورپی کمشنر نے اس حوالے سے خاص طور پر جرمن قوانین کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا، ’’جرمنی میں ایسا رجحان خاص طور پر نمایاں ہے۔‘‘ یورپی یونین کے انسانی حقوق کے کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اہل خانہ کو بلانے کے حوالے سے تسلیم شدہ مہاجرین اور ثانوی حیثیت میں تحفظ کے حقدار قرار دیے جانے والے مہاجرین میں تفریق انسانی حقوق کے یورپی کنوینشن کے منافی ہے اور یوں اس کی قانونی حیثیت بھی متنازعہ ہے۔

یورپی یونین کے اس ادارے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مندرجہ بالا دونوں طرح کے مہاجرین میں تفریق کا طریقہ کار بھی متنازعہ ہے۔ انسانی حقوق کا یورپی کنوینشن نہ صرف مہاجرین کو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہنے کا حق دیتا ہے بلکہ ان سے امتیازی سلوک روا رکھنے سے بھی منع کرتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق جرمنی میں مہاجرین کے اہل خانہ سے متعلق نئے قوانین کے نفاذ کے بعد سے بین الاقوامی قوانین کے تحت مہاجر سمجھے جانے والے افراد کو بھی، جن میں شامی مہاجر بھی شامل ہیں، جرمنی میں ثانوی حیثیت میں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

نیلز موئژنیئکس کا کہنا تھا کہ اہل خانہ سے متعلق ایسے سخت قوانین کی نہ صرف قانونی حیثیت متنازعہ ہے بلکہ اپنے عزیز و اقارب کو نہ بلا سکنے کے سبب مہاجرین بھی ذہنی دباؤ کا شکار اور بیمار رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں شورش زدہ علاقوں میں رہنے والے ان مہاجرین کے اہل خانہ یورپ پہنچنے کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کے باعث کئی انسانی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

پاکستانی تارکین وطن کی واپسی، یورپی یونین کی مشترکہ کارروائی

ویڈیو دیکھیے 02:09

برطانیہ میں پناہ کا متلاشی ایک پاکستانی خاندان

DW.COM

Audios and videos on the topic