1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے آبائی ملکوں کا پتا، موبائل ڈیٹا سے لگایا جائے گا

جرمنی میں مہاجرت اور پناہ گزینوں کے وفاقی دفتر کی سربراہ نے مہاجرین کے موبائل فون ڈیٹا تک مزید رسائی حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس کا مقصد مہاجرین کے ’موبائل فون کالز کی نگرانی‘ کرنا ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر برائےمہاجرت اور پناہ گزین (بی اے ایم ایف) کی سربراہ یُوٹا کورڈ کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ انہیں مہاجرین کے موبائل ڈیٹا تک رسائی کے لیے مزید حقوق فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے یہ مطالبہ جرمنی کے ایک ٹیلی وژن ایس ڈبلیو آر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

آخر وہ ایسا کیوں کرنا چاہتی ہیں؟ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا، ’’وہ تمام اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں، جن سے مہاجرین کے آبائی ممالک کا پتا لگایا جا سکے۔ اس طرح ان پناہ گزینوں کی بھی مدد ہو سکے گی، جو جرمنی میں بغیر دستاویزات کے آنے پر مجبور ہوئے۔‘‘

جرمنی کے مقامی میڈیا کے مطابق مہاجرین کے موبائل فون تک رسائی حاصل کرنے کا ایک مقصد جرمنی میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری لانا بھی ہے۔ بی اے ایم ایف کی سربراہ کا کہنا تھا، ’’اس طرح جرمن قوم کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

یورپ کا سفر کِسے کیسے کھا گیا؟ دلدوز داستانیں شائع

جرمن حکام کے مطابق جرمنی میں تقریبا ساٹھ فیصد مہاجرین بغیر کسی شناختی دستاویزات کے داخل ہوتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر کے پاس اسمارٹ فون موجود ہوتا ہے۔ رواں برس ہی وفاقی دفتر کو یہ اجازت دی گئی تھی کہ وہ بغیر شناختی دستاویزات کے آنے والے مہاجرین کے موبائل فونز کی جانچ پڑتال کر سکتے ہیں لیکن اب مہاجرین کے موبائل فونز کی نگرانی زیادہ کرنے کے حوالے سے اجازت طلب کی جا رہی ہے۔

یونان پہنچنے کی کوشش، نوّے مہاجرین اسمگلر سمیت پکڑے گئے

مہاجرین کی طرف سے شناخت نہ ظاہر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پناہ کی درخواست دینے والے افراد کو معلوم ہے کہ شامی مہاجرین کو جرمنی میں آسانی سے پناہ مل جاتی ہے۔کئی دیگر عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین شامی شہری ہونے کا دعویٰ اسی لیے کرتے ہیں۔

جرمنی میں پناہ کی درخواستیں جمع کرانے والے افراد کی بڑی تعداد کے باعث بی اے ایم ایف کے اہلکاروں پر کافی دباؤ تھا اور ہے، اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی تارکین وطن ایسے فراڈ کر پاتے ہیں۔

DW.COM