1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی ہلاکتیں: ’اعترافِ شرمندگی‘ کے لیے ڈیجیٹل کاؤنٹر

ہسپانوی شہر بارسلونا ميں ايک ايسے کافی بڑے ڈيجيٹل کاؤنٹر نے کام کرنا شروع کر ديا ہے جو بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہونے والے مہاجرين کی حقيقی تعداد بتاتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لوگوں کی توجہ اس جانب دلانا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ايف پی کی بارسلونا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق يہ ڈيجيٹل کاؤنٹر شہر کے ايک مشہور ساحلی علاقے میں نصب کيا گيا ہے، جہاں ہزاروں کی تعداد ميں مقامی باشندے اور سياح جاتے ہيں۔ بارسلونا کی خاتون ميئر آڈا کولاؤ نے کہا، ’’ہم يہ شرمندگی کا کاؤنٹر شروع کر رہے ہيں، جو بحيرہ روم ميں ہلاک ہونے والے تمام افراد کی تعداد حقيقی وقت ميں اپ ڈيٹ کرے گا۔‘‘

یہ ڈيجيٹل کاؤنٹر دھات کے بنے ہوئے بڑے بڑے ستونوں پر کھڑا کیا گیا ہے اور اس کے نيچے لکھا ہے: ’’يہ محض اعداد نہيں ہیں، يہ انسانوں کی تعداد ہے۔‘‘ اس کاؤنٹر پر گنتی 3,034 سے شروع کی گئی ہے کیونکہ بين الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق سال رواں کے دوران سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی اب تک کی تعداد اتنی ہی بنتی ہے۔

بارسلونا کی ميئر کولاؤ نے اس پيش رفت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم يہاں اس ليے موجود ہيں کہ بحيرہ روم کی آنکھوں ميں آنکھيں ڈال کر ديکھ سکيں اور پھر اس تعداد پر نگاہ ڈاليں، يہ 3,034 مہاجرين وہ ہيں جو اس ليے ہلاک ہوئے کہ انہيں پناہ کے حصول کے ليے کوئی محفوظ راستہ فراہم نہيں کيا گيا تھا۔‘‘

يہ ڈيجيٹل کاؤنٹر شہر کے ايک مشہور ساحلی علاقے میں نصب کيا گيا ہے

يہ ڈيجيٹل کاؤنٹر شہر کے ايک مشہور ساحلی علاقے میں نصب کيا گيا ہے

بين الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے پچھلے ہفتے ہی اپنے تازہ ترین اعداد و شمار ميں کہا تھا کہ ليبيا کے ساحلی علاقے سے گزشتہ ہفتے ہی ملنے والی مزید 39 لاشوں کے بعد تب رواں سال کے دوران يورپ کی طرف سفر کرتے ہوئے بحيرہ روم ميں ڈوب جانے والوں کی مجموعی تعداد 3,034 ہو گئی تھی۔

اس ادارے کی جانب سے خبردار کيا گيا ہے کہ سال رواں کے دوران جولائی کے آخری دنوں تک یہ تعداد گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے ميں کافی زيادہ ہو چکی ہے۔ جنوری تا جولائی سن 2015 ميں ایسی ہلاکتوں کی تعداد 1,917 رہی تھی۔ لیکن اس سال ان ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کی ايک وجہ يہ بھی ہے کہ اس سال بحيرہ روم کے پانیوں میں اب تک کافی زیادہ اور بڑی کشتياں ڈوب چکی ہيں۔ اس کے برعکس ترکی سے يونان پہنچنے والے پناہ گزين عموماً چھوٹی کشتياں استعمال کرتے تھے، جن پر قريب ايک سو تک افراد سوار ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ بحیرہ روم بحیرہ ایجیئن کے مقابلے میں مہاجرین کے سفر کے لیے کہیں زیادہ خطرناک سمندری راستہ ہے۔