1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی ڈیل کے خاتمے کی ذمّہ دار ترک حکومت ہو گی: یورپی کمیشن

یورپی کمیشن نے ترکی کی اُس دھمکی کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر یورپی یونین ترک شہریوں کو یورپ میں بغیر ویزا سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو مہاجرین کے حوالے سے یونین سے طے کردہ معاہدہ ختم کر دیا جائے۔

EU - Kommission Brüssel - Flaggen (picture-alliance/dpa/T. Monasse)

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ ختم ہوا تو اس کی ذمہ دار ترک حکومت ہو گی

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر تارکینِ وطن کے حوالے سے ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والا معاہدہ ختم ہوتا ہے تو اِلزام ترک رہنماؤں پر عائد ہو گا۔ ینکر نے خبردار کیا کہ ترکی نہ صرف جمہوری اقدار سے دوری اختیار کر رہا ہے بلکہ یورپ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔

مہاجرین کے حوالے سے ترک یورپی یونین معاہدہ بے جان ہو چکا: آسٹریا
ترکی میں مہاجرین کے لیے یورپی یونین کا کیش کارڈ
مہاجرین کی ڈیل کے پیسے کہاں ہیں؟ ترک صدر یورپی یونین پر برہم

یورپی کمیشن کے سربراہ نے ہفتے کے دن بلجیم کے روزنامے’ لو سوا‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مزید کہا،’’ ترک رہنماؤں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں مجھ پر اثر نہیں کرتیں۔ اگر ترک حکومت  طے شدہ شرائط پر عمل پیرا نہیں ہوتی تو پھر ویزوں کے معاملے پر بھی پیش رفت نہیں ہو گی۔‘‘ ینکر نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ ختم ہوتا ہے تو اِس کی ذمّہ دار ترک حکومت ہو گی۔

 رواں برس مارچ میں ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق ترک حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو یونان پہنچنے سے روکنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

تارکین وطن کو غیر قانونی اور خطرناک سفر سے روکنے یا واپس ترکی بھیج دینے کے عوض یونین نے ترکی میں مقیم شامی مہاجرین کی آباد کاری میں مدد کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے، ترکی شہریوں کو یورپ کے شینگن زون میں ویزہ فری سفر کی اجازت دینے اور یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے حوالے سے مذاکرات کی رفتار تیز کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

Rückführung der Flüchtlinge in die Türkei (Getty Images/AFP/O. Kose)

معاہدے کے مطابق ترک حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو یونان پہنچنے سے روکنے پر رضامندی ظاہر کی تھی

 تاہم ترک شہریوں کو شینگن زون  میں ویزہ فری داخلے کی اجازت دینے کے معاملے پر دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک کی سی صورتِ حال ہے۔

برسلز کا مطالبہ ہے کہ پہلے ترک حکومت اپنے انسدِادہشت گردی کے قوانین کو تبدیل کرے۔ اس سے قبل یورپی رہنماؤں نے ترکی میں اہم کرد حامی اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں کی نظربندی پر بھی ترک حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 خیال رہے کہ ترک وزیرِ خارجہ مولو چاوش اولُو نے رواں ہفتے تجویز پیش کی تھی کہ اگر یورپی یونین ترک شہریوں کو یورپ میں بغیر ویزا سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو انقرہ حکومت کو چاہیے کہ رواں برس کے آخر تک مہاجرین کو روکنے کے لیے یورپ سے طے کردہ معاہدہ ختم کر دے۔

DW.COM