1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی ڈیل پر ’بڑوں‘ کی کڑی تنقید

سینیئر سفارتکاروں کے ایک گروپ نے ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والی مہاجرین سے متعلق اُس ڈیل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس کے تحت ترکی مالی مدد کے عوض مہاجرین کو یورپ جانے سے روک رہا ہے۔

دی ایلڈرز (بڑوں) نامی اس گروپ نے کہا ہے کہ مہاجرین کو یورپ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے طے کی گئی اس ڈیل سے دیگر ممالک کے ہاتھوں ایک ’بُری مثال‘ آ جائے گی۔

نوبل انعام یافتہ نیلسن منڈیلا نے ’دی ایلڈرز‘ کی بنیاد رکھی تھی، جس میں اس وقت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے سینیئر سفارتکار بھی شامل ہو چکے ہیں۔

دی ایلڈرز کے مطابق برسلز اور انقرہ کے مابین طے پانے والی یہ ڈیل ’اخلاقی طور پر مشکوک‘ ہے جبکہ امکان ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہو۔ اس گروپ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’اس طرح ایک پیچیدہ مثال قائم جا رہی ہے‘‘۔

اس رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے سولہ ممالک کو بھی ایسی ہی پیشکش کر دی ہے تاکہ وہ بھی مالی مدد کے بدلے مہاجرین کو یورپ سفر کرنے سے روک دیں۔

رپورٹ کے مطابق ان میں سوڈان اور اریٹیریا جیسے ممالک بھی شامل ہیں، جہاں انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں۔

اس گروہ کے رکن اور اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین اور ترکی کے مابین یہ ڈیل مہاجرین کے حقوق پر سمجھوتے کا باعث بن رہی ہے۔

مارچ میں طے پانے والی اس ڈیل کے باعث ترکی سے بحیرہ ایجبیئن کے راستے یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں واضح کمی ہوئی ہے۔

اگرچہ اس ڈیل کو حتمی شکل دینے میں برلن حکومت نے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن ’دی ایلڈرز‘ نے مہاجرین کے بحران میں جرمنی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر یورپی ممالک کو بھی مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کے کوٹے کو تسلیم کرنا چاہیے۔

کوفی عنان نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجر پالیسی کی ستائش کرتے ہوئے مزید کہا، ’’یہ یورپ کے لیے ایک مثال ہے۔ یورپ کے دیگر ممالک کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔‘‘ تاہم بہت سے یورپی، بالخصوص مشرقی یورپی ممالک مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کے کوٹہ سسٹم کے خلاف ہیں۔

الجزائر سے تعلق رکھنے والے سینیئر سفارتکار لخدر براہیمی کا کہنا ہے، ’’بہت سے یورپی ممالک ہمیں جو لیکچر دیتے ہیں، دراصل وہ ان کے برخلاف عمل کر رہے ہیں۔‘‘

DW.COM