1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کی ڈیل‘، نیا فارمولا تلاش کرنا ضروری ہے، ترکی

یورپی یونین کے لیے ترک وزیر نے کہا ہے کہ ترکی اور یورپی یونین کے مابین مہاجرین کی ڈیل میں ترکی کا انسداد دہشت گردی کا قانون انقرہ کے لیے ’دکھتی رگ‘ بن گیا ہے۔ انہوں نے اس سیاسی تعطل کے حل پر زور دیا ہے۔

ترک وزیر برائے یورپی یونین وولکان بوزکِیر نے زور دیا ہے کہ مہاجرین کی اس ڈیل کو بچانے کے لیے یورپی یونین کو ایک نیا فارمولا تلاش کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یونین کی طرف سے ترکی کے انسداد دہشت گردی قوانین میں تبدیلی کے مطالبے کے باعث سیاسی تعطل پیدا ہو چکا ہے۔

جمعے کی شام برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بوزکیر کا مزید کہنا تھا، ’’اس موقع پر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں بہت زیادہ پرامید ہوں۔‘‘ یورپی یونین میں توسیع کے کمشنر یوہانس ہان سے ملاقات کے بعد بوزکیر نے مزید کہا کہ اس تعطل کے خاتمے کے لیے یورپی یونین کو اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنا چاہیے۔

مہاجرین کی اس ڈیل کے تحت یورپی یونین نے حامی بھری تھی کہ مطلوبہ شرائط پوری کیے جانے پر ترک باشندوں کو شینگن زون میں ویزہ فری داخلے کی اجازت دی دے دی جائے گی۔ ان شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ انقرہ حکومت اپنے انسداد دہشت گردی قوانین میں اصلاحات پیدا کرتے ہوئے اسے مزید مؤثر بنائے گی تاکہ یہ یورپی ممالک کے معیارات کے مطابق ہو جائیں۔ یورپ کو شکایت ہے کہ ترکی میں یہ قوانین مخصوص صحافیوں اور حکومت پر تنقید کرنے والے عناصر کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے البتہ کہا کہ انقرہ حکومت موجودہ انسداد دہشت گردی قوانین میں کوئی ترمیم نہیں کرے گی۔ بوزکیر نے اس تناظر میں کہا ہے کہ اس سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے یورپی یونین سے مشاورت کی بارہا درخواست کی گئی ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

یورپی امور کے ترک وزیر وولکان بوزکِیر نے ساتھ ہی اپنے ملک میں انسداد دہشت گردی قوانین کا دفاع بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کے ممالک کے مقابلے میں دیکھا جائے تو ترکی میں یہ قوانین ’برے‘ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی کے موجودہ خطرات کے تناظر میں ان قوانین میں فوری طور پر تبدیلیاں نہیں کی جا سکتی ہیں۔

Volkan Bozkir

ترک وزیر برائے یورپی یونین وولکان بوزکِیر نے اس سیاسی تعطل کے حل پر زور دیا ہے

بوزکیر نے یورپی یونین اور ترکی کے مابین طے پانے والی مہاجرین سے متعلق ڈیل میں اس نکتے کو ’دکھتی رگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے ایک نیا فارمولا تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، ’’میرے خیال میں یورپی کمیشن کو سمجھنا چاہیے کہ ترکی میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کیسی ہے۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی ’بے عزتی‘ کرنے پر ملکی استغاثہ نے بہت سے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ سن 2014 میں صدر بننے کے بعد سے ایردوآن کے خلاف ’متنازعہ یا توہین آمیز‘ بیانات جاری کرنے کی وجہ سے اٹھارہ سو افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان میں صحافی، مزاح نگار اور ان کے ناقدین کے بھی شامل ہیں۔