مہاجرین کی ڈیل ختم ہو سکتی ہے، ترک وزیر خارجہ کا انتباہ | مہاجرین کا بحران | DW | 15.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی ڈیل ختم ہو سکتی ہے، ترک وزیر خارجہ کا انتباہ

ترک وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین اپنے وعدے کے مطابق رواں برس اکتوبر تک ترک شہریوں کو شینگن زون میں بغیر ویزے کے سفر کی سہولت نہیں دیتی تو انقرہ حکومت مہاجرین سے متعلق ڈیل سے پیچھے ہٹ سکتی ہے۔

Türkei Ankara Außenminister Mevlut Cavusoglu

ترک وزیر خارجہ کے بقول یورپی یونین کو اکتوبر تک ترک شہریوں کو شینگن زون میں بغیر ویزے کے سفر کی اجازت دے دینا چاہیے

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی یونین کو اکتوبر تک ترک شہریوں کو شینگن زون میں بغیر ویزے کے سفر کی اجازت دے دینا چاہیے۔

جرمن روزنامے بلٹ میں شائع ہونے والے ایک بیان میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ بصورت دیگر ترک حکومت یورپی یونین کے ساتھ طے پانے والی مہاجرین سے متعلق ڈیل سے پیچھے ہٹ جائے گی۔

مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والی اس ڈیل کے تحت انقرہ حکومت کو پابند بنایا گیا تھا کہ وہ اپنے ہاں سے غیرقانونی طور پر بحیرہء ایجیئن کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو روکے اور یونان پہنچنے والے مہاجرین کو دوبارہ قبول کرے علاوہ ازیں اپنے ہاں موجود مہاجرین کی بہبود کے لیے اقدامات بھی کرے۔

اس کے عوض ترکی کو تین ارب یورو امداد کے ساتھ ساتھ یونان سے واپس بھیجے جانے والے ہر مہاجر کے بدلے ترکی میں موجود ایک شامی مہاجر کو یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں بسانے پر رضامندی ظاہر کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ اس معاہدے میں ایک شق یہ بھی تھی کہ معاہدے پر عمل درآمد کی صورت میں ترک باشندوں کو شینگن ممالک کی ویزا فری انٹری دی جائے گی۔ تاہم ترکی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، انسدادِ دہشت گردی کے سخت قوانین اور اظہار رائے پر عائد پابندیوں کے ساتھ ساتھ وہاں گزشتہ ماہ ہونے والی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد شروع ہونے والے سخت کریک ڈاؤن کی وجہ سے اس شق پر عمل درآمد اب تک ممکن نہیں ہو پایا ہے، جس پر انقرہ حکومت سخت برہم ہے۔

اس ڈیل کے مستقبل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ترک وزیر خارجہ نے کہا، ’’میں ممکنہ طور پر انتہائی برے منظر نامے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ ہمیں اس معاہدے کی سبھی شقوں پر عمل کرنا ہو گا یا اس ڈیل کو ہی ختم کر دینا ہو گا۔‘‘

Flüchtlinge in die Türkei

ترکی میں ڈھائی ملین سے زائد شامی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں

یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے ترک وزیر خارجہ کے اس تازہ انٹرویو پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے روئٹرز کو بتایا ہے کہ یورپی یونین انقرہ حکومت کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری طرف یورپی کمیشنر گوئنتھر اوئيٹينگر نے کہا ہے کہ ترکی حکومت کی طرف سے ناکام بغاوت کے بعد شروع کیے گئے متنازعہ کریک ڈاؤن کے تناظر میں رواں سال ترک شہریوں کو شنگین زون میں ویزا فری داخلے کا امکان کم ہی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات