1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی ڈیل ختم کر سکتے ہیں، ترک وزیرخارجہ کی دھمکی

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان سفارتی کشیدگی میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے اور اسی تناظر میں ترک وزیرخارجہ مولود چاؤش اولو نے دھمکی دی ہے کہ انقرہ حکومت گزشتہ برس مہاجرین سے متعلق طے شدہ ڈیل کو معطل بھی کر سکتی ہے۔

ترکی اور یورپی ممالک جرمنی اور ہالینڈ کے درمیان حالیہ کچھ دنوں میں سفارتی کشیدگی میں بے انتہا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک برس قبل یورپی یونین اور انقرہ حکومت کے درمیان طے پانے والی ڈیل میں ترکی کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ہاں سے مہاجرین کو بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یونان پہنچنے سے روکے گا۔ تاہم اب ترکی نے دھمکی دی ہے کہ وہ یہ معاہدہ معطل بھی کر سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت غیرقانونی طور پر یورپی یونین میں داخل ہونے والے مہاجرین کو دوبارہ ترکی بھیجنے اور ان کی جگہ ترکی میں موجود شامی مہاجرین کو یورپی یونین میں بسانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم اب ترک وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس معاہدے پر نظرثانی کر رہا ہے۔

اس بیان کے بعد ترکی اور یورپی یونین کے ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔

Türkei Proteste in Istanbul gegen die Niederlande (picture-alliance/abaca/AA/S.Z. Fazlioglu)

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے

ترکی اور یورپی ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کی وجہ یہ بات بنی ہے کہ جرمنی اور ہالینڈ نے اپنے اپنے ہاں ترک سیاست دانوں کو ترک صدارتی ریفرنڈم سے متعلقہ ریلیوں سے خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ترکی میں صدارتی نظام رائج کیے جانے سے متعلق ایک عوامی ریفرنڈم منعقد کرایا جا رہا ہے، جب کہ جرمنی اور ہالینڈ میں ترک باشندوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، جو ترکی میں بھی ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ انہی ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے ترک صدر ایردوآن کی حکمران جماعت کے سیاست دان جرمنی اور ہالینڈ میں ترک باشندوں سے خطابات کرنا چاہتے تھے، تاہم انہیں اس کی اجازت نہ دی گئی۔

24 ٹی وی نامی چینل کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں چاؤش اولو نے کہا کہ اس معاہدے کی ایک شق شینگن ممالک کے لیے ترک شہریوں کے ویزا فری سفر سے متعلق بھی تھی، جس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور ایسی صورت میں ترکی اس ڈیل کو ختم کر سکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سخت حکومتی کریک ڈاؤن کے تناظر میں یورپی یونین نے ویزا فری سفر کی اجازت سے قبل انقرہ حکومت کو چند سیاسی اور قانونی اصلاحات کی شرائط پیش کی تھیں، تاہم ترکی نے انہیں مسترد کر دیا تھا۔