1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کی وطن واپسی میں تعاون کرو، ورنہ امداد بند‘

آسٹریا کے وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ یونین ایسے ممالک کو امداد فراہم کرنا بند کر دے جو یورپ سے ملک بدر کیے جانے والے اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق آسٹریا کے وزیر خارجہ سباسچیئن کُرز نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے ممالک کو امداد کی فراہمی روک دے جو یورپ سے ملک بدر کیے جانے والے اپنے شہریوں کو واپس اپنے وطن آنے کی اجازت نہیں دے رہے۔

آسٹرین وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’اگر ہم چاہتے ہیں کہ مہاجرین کی یورپ سے وطن واپسی یقینی بنائی جائے تو یورپ کو آخر کار دباؤ بڑھانا پڑے گا۔‘‘

کُرز نے بالخصوص پاکستان، تیونس اور مراکش کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین ان ممالک کو سالانہ 12 بلین ڈالر کی مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اس وقت یورپی یونین مراکش کو 280 ملین یورو اور تیونس کو 414 ملین یورو سالانہ امداد فراہم کر رہی ہے۔ اس کے باوجود یہ ممالک پناہ گزینوں کو واپس اپنے وطن آنے کی اجازت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔‘‘

جرمنی کے نائب چانسلر زیگمار گابریئل نے بھی گزشتہ ماہ ایسا ہی مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی ملک اپنے شہریوں کی وطن واپسی میں تعاون نہ کرے تو ان ممالک کو امداد کی فراہمی روک دینا چاہیے۔ آسٹرین وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین کے 18 فروری سے شروع ہونے والی سمٹ میں اپنی تجویز پیش کریں گے۔

گزشتہ برس آسٹریا میں 90 ہزار سے زائد تارکین وطن نے پناہ کی درخواستیں دی تھیں۔ آسٹریا کا شمار جرمنی اور سویڈین کے بعد ان یورپی ممالک میں ہوتا ہے جہاں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ پناہ کی درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔

ویانا حکومت نے گزشتہ دنوں ہی اگلے تین برسوں کے دوران پچاس ہزار غیر ملکی پناہ گزینوں کو آسٹریا سے ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آسٹریا کے نئے وزیر دفاع ہانس پیٹر ڈاسکوزیل نے بھی آج یورپی بارڈر ایجنسی کے غیر فعال ہونے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو اپنی بیرونی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے مزید اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔