1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی وجہ سے جرمنی کی آبادی میں ریکارڈ اضافہ

جرمنی کی آبادی میں گزشتہ برس چھ لاکھ کا اضافہ ہوا اور اب تاریخ میں پہلی بار ملک کی مجموعی آبادی 82.8 ملین ہو گئی ہے۔ جرمنی کے وفاقی دفتر برائے شماریات کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ملک میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد ہے۔

جمعے کے روز جرمن ادارہ برائے شماریات نے بتایا کہ اس سے قبل سن 2002ء میں جرمن آبادی 82.5 ملین تک پہنچی تھی، تاہم گزشتہ برس ماضی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اس وفاقی دفتر کے مطابق گو کہ گزشتہ برس ملک میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار جب کہ انتقال کر جانے افراد کی تعداد ایک لاکھ نوے ہزار تھی، تاہم مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کی وجہ سے مجموعی طور پر آبادی میں اضافہ ایک مثبت بات ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دیگر علاقوں سے جنگ اور غربت کے شکار افراد کی ایک بڑی تعداد جرمنی پہنچی ہے۔ سیاسی پناہ کے نسبتاﹰ کم سخت قوانین اور سماجی بہبود کا فراخ دلانہ نظام ان مہاجرین کو جرمنی کھینچ لایا۔

ایک ایسے موقع پر جب یورو زون قرضوں کے بحران کا شکار ہے، مہاجرین یونان اور اسپین جیسے دیگر یورپی ممالک سے بھی جرمنی ہی کا رخ کر رہے ہیں۔

وفاقی دفترِشماریات کی جانب سے ان اعداد و شمار میں ان افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ملک میں مہاجرین کے مراکز میں رجسٹرڈ ہیں۔ جرمنی میں سیاسی پناہ کے درخواست دہندگان کو ابتدا میں پناہ گزینوں کے مراکز میں رکھا جاتا ہے اور بعد میں رجسٹر کیا جاتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں جرمنی کی مستحکم اقتصادی ترقی کا تسلسل سن 2010ء سے جاری ہے، جب کہ مختلف حکومتوں کی جانب سے تواتر کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں تاکہ خاندانوں کے لیے مراعات میں اضافہ کر کے شرح پیدائش کو تقویت دی جائے، تاہم اب بھی جرمنی میں نئے پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں انتقال کر جانے والے شہریوں کی تعداد کم ہے۔

جرمنی میں مہاجرین کے لیے مختص بجٹ کو سن 2016 اور 2017 کے لیے قریب 28 اعشاریہ سات ارب یورو رکھا گیا ہے، جس کے تحت ان تارکین وطن کو قیام کی سہولیات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سماجی انضمام کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔