1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی ملک بدری کو دوگنا کیا جائے، جرمن اہل کار

جرمن حکومت کے مہاجرین سے متعلق کوآرڈینیٹر نے ملکی ریاستوں پر زور دیا ہے کہ مہاجرین کی ملک بدری کے عمل کو تیز کیا جائے۔ انہوں نے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان مہاجرین سے متعلق متنازعہ معاہدے کی بھی حمایت کی۔

جرمن حکومتی اہل کار پیٹر آلٹمائر کا ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جرمن ریاستوں کو کوشش کرنا چاہیے کہ رواں برس کے اختتام تک ان مہاجرین کی ملک بدری کو دوگنا کر دیں جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

آلٹمائر کا کہنا تھا، ’’گزشتہ برس، سینتیس ہزار دو سو بیس مہاجرین رضاکارانہ طور پر جرمنی چھوڑ گئے تھے جب کہ بائیس ہزار دو سو بیس کو ہم نے ملک بدر کر دیا تھا۔ اس تعداد کو دوگنا کیا جا سکتا ہے، اور جرمن ریاستوں کو اس ضمن میں کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘

آلٹمائر کا کہنا تھا کہ مہاجرین سے متعلق جرمن حکومت کا دفتر اس وقت قریباً پچاس ہزار کیسز فی مہینہ کے حساب سے جانچ پڑتال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ان میں ایک تہائی کے قریب پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی جاتی ہیں۔ ’’ہمیں یقینی بنانا چاہیے کہ ملک بدر کیے جانے والے افراد کی تعداد بڑھتی رہے۔‘‘

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ علاقوں، بالخصوص شام اور عراق سے بڑی تعداد میں مہاجرین یورپی پہنچے ہیں۔ ان میں سے بیشتر جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم خاصی بڑی تعداد ان افراد کی بھی ہے جو جنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ روزگار کے بہتر مواقع تلاش کرنے کی غرض سے یورپ اور جرمنی آئے ہیں۔ جرمن حکومت واضح کر چکی ہے کہ اسلامی شدت پسندی سے بچ کر اور لُٹ پٹ کر یورپ آنے والوں کو تو پناہ دی جا سکتی ہے، تاہم ’اقتصادی مہاجرین‘ کی ملک میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

آلٹمائر نے گزشتہ ماہ ترکی اور یورپی یونین کے درمیان مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے طے پانے والے ایک متنازعہ معاہدے کی بھی حمایت کی۔ اس معاہدے کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس معاہدے کے اطلاق کے بعد یونان سے مہاجرین کو واپس ترکی بھیجا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے آلٹمائر نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ یورپ میں پناہ لینے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی آئے، اور اگر یہ معاہدہ اس مقصد کے حصول کے لیے کارآمد ہے تو اسے خوش آمدید کہنا چاہیے۔