1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی روک تھام، اٹلی کے لیے 54 ملین ڈالر کی امداد

یورپی یونین نے اٹلی کو مہاجرین کے بحران پر قابو پانے کے لیے چون ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس امداد سے اٹلی، لیبیا کے مہاجرین کی آمد کو روکنے کی کوششوں کو تقویت دے گا۔

یورپی یونین نے اٹلی کی امداد اس تناظر میں کی ہے کہ وہ لیبیا کے شمالی اور جنوبی سرحدوں کو مزید محفوظ بنائے تا کہ وہاں سے افریقی ملکوں کے مہاجرین کی لیبیا میں داخل ہونے کے سلسلے کو روکا جا سکے۔ رواں برس لیبیا کی ساحلوں سے پچانوے ہزار کے قریب افریقی مہاجرین انسانی اسمگلروں کی کمزور کشتیوں پر سوار ہو کر اٹلی پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔

مہاجرین کا راستہ کیسے روکا جائے؟ اٹلی کا نیا منصوبہ

’مہاجرین کی مدد کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ‘ کا الزام مسترد

لیبیا کو ربڑ کی کشتیاں سپلائی نہیں کی جائیں گی، یورپی یونین

مہاجرین کو روکنے کی خاطر مہاجرت مخالف گروپ بھی سمندر میں

اٹلی کی حکومت ایسی منصوبہ بندی کیے ہوئے ہے کہ وہ اپنی بحریہ کے جہاز اور تیز رفتار کشتیاں لیبیا کے پانیوں میں تعینات کر کے انسانی اسمگلروں کی کشتیوں کو آگے بڑھنے سے روک دے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ خاص طور پر لیبیا کی جنوبی سرحد کو اس لیے مضبوط کرنا چاہتی ہے تا کہ افریقی ملکوں کے مہاجرین کو اس سرحد کو عبور کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔

Libyen Flüchtlingslager in Bengasi (picture-alliance/dpa/A. Stenin)

لیبیا میں افریقی مہاجرین کا ایک کیمپ

یورپی یونین نے پہلے ہی بحیرہ روم کے انتہائی شمال میں سمندری مشن کو شروع کر رکھا ہے تا کہ مہاجرین کی بھری کشتیوں کو خطرناک سمندری علاقے میں داخل ہونے سے قبل ہی روک دیا جائے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین نے لیبیا کو نوے ملین یورو عطیہ کیے ہیں تا کہ لیبیا  میں محصور افریقی مہاجرین کے خراب حالات کو کو بہتر کیا جا سکے اور انہیں جنوبی سرحد کے پار کے ممالک کو واپس کیا جا سکے۔

ویڈیو دیکھیے 01:13

بحیرہ روم میں مہاجرین کا ریسکیو

یورپی یونین ان مہاجرین کو سمندری سفر کی مشکلات اور جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کرنے کو بھی ضروری خیال کرتی ہے۔ افریقی مہاجرین یورپ پہنچنے کے لیے لیبیا کو ایک اہم منزل اور دروازہ قرار دیتے ہیں۔

یورپی یونین کا یہ امدادی مشن حقیقت میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ یونٹی حکومت کو مزید مستحکم بھی کرنا ہے۔ یہ حکومت طرابلس میں وزیراعظم فائز السراج کی قیادت میں قائم ہے۔

دوسری جانب یونین ایسی کوششوں کو بھی تیز کرنے کی کوشش میں ہے کہ جن افریقی مہاجرین کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، انہیں جلد از جلد واپس اُن کے ملکوں کو روانہ کیا جائے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic