1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی درخواستوں پر فیصلے، کس جرمن صوبے میں کب تک؟

برلن میں صحت و سماجی امور کے محکمے کے سامنے رجسٹریشن کے منتظر تارکین وطن کی طویل قطار متعلقہ صوبائی اداروں کی سست کارکردگی کی علامت بن چکی ہے۔ سرد موسم اور بارش میں بھی پناہ گزینوں کو پورا پورا دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اس کے برعکس جرمن شہر ہائیڈل برگ کی ایک پرانی امریکی چھاؤنی میں قائم کردہ پناہ گزینوں کا ایک رہائشی مرکز اپنی نوعیت کا مثالی منصوبہ ہے۔ یہ مرکز رواں برس اکتوبر میں کھولا گیا تھا۔ اب وہاں جرمن صوبے باڈن ورٹمبرگ میں آنے والے تارکین وطن کی رجسٹریشن کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ اس وفاقی صوبے میں آنے والے پناہ گزینوں کی تین چوتھائی تعداد کو یہیں رجسٹر کیا جاتا ہے۔

مثالی قرار دیے جانے والے اس مرکز میں عمومی انتظامات کا عالم یہ ہے کہ جب ملک کے وفاقی ادارہ برائے تارکین وطن اور مہاجرت (بی اے ایم ایف) کے سربراہ فرانک ژُرگن وائزے نے اس رجسٹریشن سینٹر کا دورہ کیا، تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ باقی جرمن صوبوں کو اس مرکز سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔

اس مرکز میں تارکین وطن کی رجسٹریشن، شناخت، طبی جائزہ اور پناہ کی درخواست پر کارروائی، یہ سارے مراحل ایک ہی چھت کے نیچے مکمل کیے جاتے ہیں۔ مرکز کے ساتھ ہی پناہ گزینوں کے لیے 1500 رہائشی یونٹ بھی دستیاب ہیں جہاں 13 ہزار سے زائد تارکین وطن کو رہائش فراہم کی جا سکتی ہے۔ فی الوقت وہاں BAMF کے 50 اہلکار کام کر رہے ہیں۔ چند روز بعد جنوری سے ان کی تعداد دگنی کر دی جائے گی۔

ان سہولیات کی موجودگی میں شام، عراق اور اریٹریا سے آنے والے پناہ گزینوں کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے صرف دو دن کے اندر اندر کر دیے جاتے ہیں۔ پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک سے آنے والے تارکین وطن کی درخواستوں پر نسبتاﹰ زیادہ وقت لگتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں موجود اہلکاروں کو ہر کیس میں انفرادی سطح پر یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ آیا درخواست گزار واقعی جان و مال کے خطرے کے نتیجے میں اپنا ملک چھوڑ کر پناہ حاصل کرنے آیا ہے یا پھر وہ محض معاشی وجوہات کی بنا پر ترک وطن کرنے والا کوئی انسان ہے۔

Deutschland Bamf-Außenstelle - Projekt Flüchtlinge

ہائیڈل برگ میں تارکین وطن کی رجسٹریشن، شناخت، طبی جائزہ اور پناہ کی درخواست پر کارروائی، یہ سارے مراحل ایک ہی چھت کے نیچے مکمل کیے جاتے ہیں۔

درخواستوں پر فیصلوں میں تاخیر

سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے میں باڈن ورٹمبرگ اور باویریا سمیت کئی جرمن صوبوں کی کارکردگی بہت بہترہے۔ لیکن برلن اور نارتھ رائن ویسٹ فیلیا جیسے صوبے ایسی فیصلہ سازی میں واضح تاخیر کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

رواں برس جرمنی کی سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں تین لاکھ تیس ہزار پناہ گزین پہنچے۔ ان تارکین وطن میں سے اکثر کی درخواستوں پر ابھی تک کوئی کارروائی شروع ہی نہیں ہو سکی۔ اس وفاقی ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ ہانےلورے کرافٹ اس کا ذمہ دار وفاقی ادارہ برائے ترک وطن اور مہاجرت کو قرار دیتی ہیں۔

بی اے ایم ایف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ 2016ء میں اس ادارے کے اہلکاروں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ اس وفاقی محکمے کے سربراہ وائزے کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ اس محکمے کے تمام دفاتر ہر ہفتے میں چھ دن اور صبح سے لے کر شام تک کھلے رہیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد سیاسی پناہ کی درخواستوں پر جلد فیصلہ سازی کو یقینی بنانا ہے۔