1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی حد کا تعین کرنا چاہیے، میرکل کے ناقد کا اصرار

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی فراخ دلانہ مہاجر پالیسی کے شدید ناقد اور قدامت پسند سیاست دان ہورسٹ زیہوفر نے کہا ہے کہ وہ جرمنی میں مہاجرین کی سالانہ آمد کی ایک حد کے تعین کا مطالبہ ترک نہیں کریں گے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی پارٹی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو)  کی باویریا میں ہم خیال پارٹی کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو)  کے سربراہ ہورسٹ زیہوفر نے دہرایا ہے کہ وہ مہاجرین کی جرمنی آمد کی ایک حد تعین کرنے کے مطالبے پر قائم رہیں گے۔

مسترد شدہ مہاجرین کی ملک بدری میں تیزی لائی جائے گی، میرکل

مہاجرت کے اقتصادی عوامل کا سدباب ضروری ہے، میرکل

’میرکل کی فراخدلی لے ڈوبی‘

حکمران اتحاد میں شامل قدامت پسند سیاسی پارٹی سی ایس یو کے رہنما زیہوفر نے مہاجرین کی حکومتی پالیسی پر اپنے مؤقف میں لچک نہ لانے کا اصرار کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ اس تناظر میں جرمنی میں آنے والے مہاجرین کی ایک سالانہ تعداد طے کرنا ضروری ہے۔

مہاجرین کے بحران کے آغاز کے ساتھ ہی زیہوفر نے میرکل کی مہاجر پالیسی پر تنقید شروع کر دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سالانہ دو لاکھ مہاجرین کو قبول کرے۔ گزشتہ برس برلن حکومت کی اسی پالیسی کے باعث یورپ کے مختلف ممالک میں پھنسے تقریبا نو لاکھ مہاجرین جرمنی آنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

تاہم رواں برس جرمنی پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ برس جرمنی آنے والے ایسے افراد کی تعداد آٹھ لاکھ نوے ہزار تھی جب کہ رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران یہ تعداد دو لاکھ تیرہ ہزار ریکارڈ کی گئی ہے۔

یورپ اور جرمنی میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد جرمن عوام میں بھی میرکل کی مہاجر پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسی باعث میرکل کی عوامی مقبولیت میں بھی واضح کمی نوٹ کی گئی ہے، جب کہ مہاجر مخالف دائیں بازو کی سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

سیاسی اور عوامی دباؤ کے باوجود انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی اس بحران پر قابو پا سکتا ہے جب کہ انہوں نے مہاجرین کی آمد کی ایک حد کا تعین کرنے سے بھی انکار کر رکھا ہے۔ جرمنی میں آئندہ وفاقی انتخابات کا انعقاد اگلے سال ستمبر میں متوقع ہیں، جس میں مہاجرین کے بحران کے باعث میرکل کی پارٹی کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

جرمن اخبار ’بلڈ ام زونٹاگ‘ کے اتوار کے ایڈیشن میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں زیہوفر نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ قدامت پسند اتحاد میں پایا جانے والا یہ اختلاف رواں ماہ کے آخر تک دور کر لیا جائے گا لیکن وہ اپنے مطالبے سے دست بردار نہیں ہوں گے۔

Deutschland Potsdam Horst Seehofer und Angela Merkel (picture-alliance/dpa/R. Hirschberger)

مہاجرین کے بحران کے آغاز کے ساتھ ہی زیہوفر نے میرکل کی مہاجر پالیسی پر تنقید شروع کر دی تھی

اپنے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے زیہوفر نے کہا، ’’میں سی ایس یو کی روح نہیں بیچوں گا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر ہونے والے اب تک کی پیش رفت پر مطمئن ہیں لیکن اس تناظر میں شفاف اور ٹھوس اقدامات کو حتمی شکل دینا ناگزیر ہے۔

چانسلر میرکل نے ہفتے کی شب پاڈربورن شہر میں اپنی سیاسی پارٹی کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے یوتھ ونگ بلاک سے خطاب میں کہا تھا کہ سیاسی پناہ کے ایسے متلاشی افراد کو ان کے آبائی ممالک روانہ کرنے کی کوششیں جاری ہے، جن کی درخواستیں رد ہو چکی ہیں۔

میرکل نے اس تناظر میں کہا تھا کہ اس مقصد کے لیے قومی سطح پر کوششیں کرنا ہو گی لیکن اس خطاب میں انہوں نے جرمنی آنے والے مزید مہاجرین کی تعداد کی ایک حد متعین کرنے کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔

DW.COM