1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی جرمنی آمد میں کمی بدستور برقرار

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والے نئے مہاجرین کی تعداد میں جولائی میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔ جولائی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والوں کی تعداد قریب 16 ہزار رہی۔

جرمنی کی وزارت داخلہ کی جانب سے پیر کے روز بتایا گیا ہے کہ جولائی کے مہینے میں جرمنی میں سیاسی پناہ کی 16 ہزار ایک سو 60 نئی درخواستیں موصول ہوئیں اور یہ تعداد گزشتہ تین ماہ سے بدستور قریب ایک سی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ برس موسم خزاں میں مہاجرین کے بحران کی بلند ترین سطح سے نہایت کم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جرمنی میں سیاسی پناہ کے لیے درخوست دینے والوں میں زیادہ تر شامی شہری شامل ہیں۔

سن 2015ء میں جرمنی میں قریب گیارہ لاکھ افراد نے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں، جب کہ صرف ماہ نومبر میں یہ تعداد دو لاکھ چھ ہزار تھی۔ مہاجرین کی سب سے زیادہ بڑی تعداد ترکی سے بحیرہء ایجیئن کے راستے یونان اور پھر خطّہٴ بلقان کی ریاستوں کا راستہ استعمال کرتے ہوئے مغربی اور شمالی یورپ پہنچی۔ ان مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد جرمنی پہنچی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں برس جنوری میں قریب 92 ہزار مہاجرین نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں، جب کہ رواں برس مجموعی طور پر دو لاکھ 38 ہزار چار سو 24 نئی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ تاہم جرمن حکام اس سلسلے میں یہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں کہ رواں برس مجموعی طور پر کتنے مہاجرین جرمنی پہنچ سکتے ہیں۔

Deutschland Flüchtlinge Tempelhof Berlin

جرمنی میں ایک ملین سے زائد مہاجرین پہنچے ہیں

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ شام کے بعد جن ممالک کی باشندوں نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی سب سے زیادہ درخواستیں جمع کرائیں، وہ افغانستان، عراق، اریٹریا اور روس تھے۔

رواں برس مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد بحیرہء ایجیئن کے راستے یورپی یونین پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جب کہ بلقان ریاستوں کی جانب سے اپنی سرحدیں بند کر دینے کی وجہ سے بھی تارکین وطن کا مغربی یورپ کی جانب بہاؤ کسی حد تک رکا ہے۔ تاہم ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش، وہاں جاری حکومتی کریک ڈاؤن اور یورپ کے ساتھ انقرہ حکومت کے بگڑتے تعلقات کے تناظر میں یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ راستہ ایک مرتبہ پھر کھل سکتا ہے۔