1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مہاجرین کی تعداد میں اضافہ، بوجھ غریب ممالک پر

گزشتہ 15برسوں میں دنیا میں مہاجرین کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2010ء تک دنیا بھر میں بےگھر ہونے والے افراد کی تعداد 43.7 ملین تھی۔

default

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) نے پیر کے روز کہا ہے کہ دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے ہر پانچ افراد میں سے چار کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ اس سالانہ رپورٹ میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے دوسرے ممالک جانے والے 15.4ملین افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک جانے والے 80 فیصد افراد کا تعلق بھی ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 27.5 ملین ہے۔

Afghanische Flüchtlinge in Pakistan

اس وقت بے گھر ہونے والے افغان باشدوں کی تعداد تین ملین ہے

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کے لیے غریب ممالک کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ پناہ گزین پاکستان میں آباد ہے، جن کی تعداد 1.9 ملین بنتی ہے۔ دوسرے نمبر پر ایران ہے، جہاں 1.1ملین مہاجرین بستے ہیں، تیسرے نمبر پر شام آتا ہے، جہاں رہنے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک ملین ہے۔

Pakistan Flüchtlinge Kinder vor UNHCR Zelten

سب سے زیادہ پناہ گزین پاکستان میں آباد ہے، جن کی تعداد 1.9 ملین بنتی ہے

دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہاجرین افغان باشندے ہیں۔ اس رپورٹ کے اندازوں کے مطابق اس وقت بے گھر ہونے والے افغان باشدوں کی تعداد تین ملین ہے۔ دوسرے نمبر پر عراقی مہاجرین ہیں، جن کی تعداد 1.6ملین ہے۔ اس کے بعد صومالیہ کا نمبر آتا ہے، جہاں کے مہاجرین کی تعداد تقریباﹰ 77 ہزار ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے مہاجرین کے لیے مقرر ڈپٹی ہائی کمشنر الیگزینڈر الائنی کوف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’شمالی افریقہ، آئیوری کوسٹ، شام، سوڈان اور کئی دوسرے ملکوں سے لوگ ابھی بھی ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق ان مہاجرین کا بوجھ صرف چند ملکوں پر ڈال دیا گیا ہے، جو غیر منصفانہ ہے۔ ڈپٹی ہائی کمشنر کے مطابق رواں برس شمالی افریقی ممالک میں احتجاجی تحریکوں کے باعث پورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے مطابق یورپ اس مسئلے سے پریشان نظر آتا ہے۔ ان کی نظر میں یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد اتنی بڑی نہیں ہے کہ اس سے نمٹا نہ جا سکے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM