1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی تعداد سرد موسم میں بھی کم نہیں ہو گی، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے مطابق سرد موسم کے باوجود آئندہ چار مہینوں کے دوران مزید چھ لاکھ مہاجرین کی ترکی سے یونان آمد متوقع ہے۔ ترکی سے یونان پہنچنے کے لیے زیادہ تر مہاجرین بحیرہ ایجئین کا خطرناک سمندری راستہ اختیار کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے یہ اعداد و شمار منصوبہ بندی کی ایک دستاویز میں پیش کیے ہیں۔ اس دستاویز میں موسم سرما کے دوران یورپ کے سفر پر نکلنے والے تارکین وطن کے حوالے سے اضافی اقدامات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق، ’’یو این ایچ سی آر کا اندازہ ہے کہ نومبر 2015ء اور جنوری 2016ء کے درمیان روزانہ پانچ ہزار مہاجرین ترکی سے یورپ کے سفر پر نکلیں گے۔ جس کے نتیجے میں چھ لاکھ تک مہاجرین یونان، کروشیا، سربیا، سلووینیا اور مقدونیا پہنچیں گے۔‘‘

گزشتہ برسوں کے دوران موسم سرما میں بحیرہ روم کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد موسم کی شدت اور سفری دشواریوں کے باعث قابل ذکر حد تک کم ہو جاتی تھی۔ تاہم یو این ایچ سی آر کے مطابق رواں برس اندیشہ ہے کہ سردیوں میں بھی مہاجرین کا بہاؤ کم نہیں ہو گا۔

رواں برس اب تک ساڑھے سات لاکھ سے زائد پناہ کے متلاشی افراد سمندری راستے کے ذریعے یورپ پہنچے ہیں۔ ان میں سے اکثریت یونان کے جزیروں پر پہنچی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں مہاجرین کے یورپ کی جانب سفر کرنے کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔ رواں برس ساڑھے تین ہزار سے زائد تارکین وطن اس کوشش کے دوران بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے، ’’آئندہ مہینوں کے دوران یورپ آنے کے خواہش مند مہاجرین کا سفر شدید موسم کے باعث مزید دشوار ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں اگر ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے موسم سرما میں مہاجرین کے لیے حفاظتی انتظامات کرنے کے لیے مزید چھیانوے ملین ڈالر کی امداد کا تقاضا کیا ہے۔ اس رقم سے پناہ گزینوں کے لیے رہائش کے انتظام اور پہلے سے قائم استقبالیہ مراکز میں سردی سے بچاؤ کا بندوبست کیا جائے گا۔

ادارے نے اس رقم کے علاوہ 2016ء کے دوران یورپ میں اپنے موسم سرما کے مراکز یا 'winterstations' کی سرگرمیوں کے لیے مزید ایک سو تہتر ملن ڈالر بھی مانگے ہیں۔

DW.COM