1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی ایک اور کشتی ڈوب گئی، اٹھارہ افراد ہلاک

ترکی سے یونان پہنچنے کے خواہش مند مہاجرین کی ایک اور کشتی کو پیش آنے والے تازہ حادثے میں کم ازکم اٹھارہ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ حادثہ جمعہ اٹھارہ دسمبر کی رات ترکی کی ساحلی حدود میں پیش آیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ترک نیوز ایجنسی دوگان کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعے کی شب بحیرہ ایجیئن میں رونما ہونے والے اس حادثے کے بعد امدادی کارکنوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چودہ مہاجرین کی جان بچا لی۔ بتایا گیا ہے کہ اس کشتی میں سوار افراد زیادہ تر شامی اور عراقی تارکین وطن تھے۔ حادثے کا شکار ہونے والی لکڑی کی اس کشتی میں پناہ کے متلاشی پاکستانی باشندے بھی سوار تھے۔

روئٹرز نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترک سمندری حدود میں جب اس کشتی کو حادثہ پیش آیا، تو ماہی گیروں نے ڈوبتے مہاجرین کی چیخ و پکار سن کر ترک امدادی کارکنوں کو اطلاع کر دی، جس کے بعد فوراﹰ ریسکیو اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ یہ حادثہ ترک شہر بودروم سے کچھ دور ساحلی علاقے میں پیش آیا۔

امدادی کارکنوں کے مطابق زخمی افراد کو بودروم کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ علاقوں کے باشندے یورپ پہنچنے کے لیے زیادہ تر یہی سمندری راستہ اختیار کرتے ہیں۔ موسم سرما کی شدت اور سمندر کی تند و تیز لہروں نے بھی ان مہاجرین کو اس خطرناک راستے سے بد ظن نہیں کیا۔

ایک اندازے کے مطابق رواں برس پانچ لاکھ مہاجرین اور تارکین وطن ترکی سے بحیرہ ایجیئن کے راستے کشتیوں پر سوار ہو کر یونان پہنچ چکے ہیں۔ اس دوران کشتیاں ڈوبنے یا دیگر حادثات کے باعث سینکڑوں انسان ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ ان ہلاک شدگان میں بچے، خواتین اور نوجوان سبھی شامل تھے۔ شام، عراق، افغانستان اور دیگر ممالک کے باشندے داخلی بدامنی سے فرار ہو کر یورپ پہنچنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پر امن ممالک میں نئی زندگی شروع کرنے کے متمنی ہیں۔

Griechenland Flüchtlingsboot vor Lesbos

رواں برس پانچ لاکھ مہاجرین اور تارکین وطن ترکی سے بحیرہ ایجیئن کے راستے کشتیوں پر سوار ہو کر یونان پہنچ چکے ہیں

مہاجرین کی بڑی پیمانے پر آمد کے باعث یورپ کو بھی مسائل لاحق ہو چکے ہیں۔ انتیس نومبر کو ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ ایک ڈیل طے کی تھی، جس میں انقرہ نے عہد کیا تھا کہ وہ ترکی کے راستے یورپ پہنچنے والے غیر قانونی مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گا۔ اس کے عوض یورپی یونین کے اٹھائیس رکنی بلاک نے ترکی کو تین بلین یورو فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

جب سے ترکی نے تارکین وطن اور مہاجرین کے خلاف اپنا کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، تب سے ترکی سے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں واضح کمی نوٹ کی گئی ہے۔