1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی آمد کے بعد جرمنی میں بھی کرکٹ کا جنون

عارف جمال جب اپنی کرکٹ ٹیم کو دیکھتا ہے تو اس کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ مہاجرین کی ٹیم کے کھلاڑی جرمن شہر ایسن کے ایک اسکول گراؤنڈ میں نہایت مہارت کے ساتھ بلا گھما کر گیند باؤنڈری کے باہر پہنچا رہے ہیں۔

عارف جمال آلٹنڈورف 09 بلو ٹائیگرز نامی اس کرکٹ ٹیم کا کپتان ہے۔ بھرپور جوش و جذبے سے کرکٹ کھیلنے کے بعد جمال نے بے ساختہ کہا، ’’اب یہ جگہ گھر جیسی ہے۔‘‘ جمال 2009ء میں افغانستان سے ہجرت کر کے جرمنی پہنچا تھا۔ کرکٹ کا کھیل جنوبی ایشیا اور افغانستان میں بھی مقبول ہے اور ان ممالک سے آنے والے ہزاروں تارکین وطن جرمنی میں یہ کرکٹ کھیل کر اب اپنے گھر کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔

جرمنی نے 2016ء میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

ایک کنٹینر میں چھپ کر یورپ پہنچنے والے جمال اور اس کی ٹیم کے باقی کھلاڑیوں کے پاس کرکٹ کھیلنے کے لیے پوری کِٹ موجود ہے اور اب وہ ایک ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ جمال کا کہنا ہے کہ عام طور پر مہاجرین کو زیادہ تر وقت انہیں فراہم کی گئی رہائش گاہ کے تاریک کمرے میں گزارنا پڑتا ہے اور ایسے میں کرکٹ کھیلنے کا موقع ملنا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

اٹھارہ سالہ خالد جمال کا تعلق پاکستان سے ہے۔ خالد کے مطابق وہ پاکستان میں بھی کرکٹ کھیلتا رہا ہے اور اس کا خواب ہے کہ کہ ایک دن وہ جرمنی کی قومی ٹیم میں کھیل پائے گا۔

مہاجر بن کر اپنے وطن سے دور ایک اجنبی ملک میں پناہ کی تلاش میں پہنچنے والوں کے لیے یہ کھیل کتنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے اس کی ایک جھلک میونخ میں قائم مہاجرین کے ایک کیمپ میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔

اس کیمپ میں رہنے والے ایک تارک وطن کو قریبی کارخانے سے لکڑی کا ایک ایسا تختہ مل گیا جسے تھوڑی سی مشقت کے بعد بیٹ کی شکل دے دی گئی۔ کیمپ پر تعینات محافظ نے انہیں ٹینس بال فراہم کر دی اور پھر وہ لوگ گھنٹوں تک اپنا پسندیدہ کھیل کھیلنے میں مصروف ہو گئے۔ جرمنی میں پناہ ملے گی بھی یا نہیں؟ درخواستوں پر فیصلے کب ہوں گے؟ کام کرنے کی اجازت کب ملے گی؟ یہ اور ایسے بہت سے دوسرے سوال جو ہر وقت انہیں پریشان کیے رکھتے ہیں، کرکٹ کھیلتے وقت ان کا شائبہ تک بھی ان کے چہروں پر دکھائی نہیں دے رہا۔

Cricket Asif Khan mit dem Kapitän von Botswana Akrum Chand

جرمنی میں دو سو سے زائد ٹیمیں کرکٹ کھیل رہی ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران کرکٹ کھیلنے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے

جرمن کرکٹ فیڈریشن کے صدر برائن مینٹل ایسی کئی کہانیوں سے واقف ہیں۔ آج دو مئی کے روز وہ فرینکفرٹ میں موجود مہاجرین کے ایک کیمپ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’کیمپ میں بارہ سو مہاجرین رہ رہے ہیں جن میں سے 250 ایسے بھی ہیں جو کرکٹ کھیلنے کے لیے بہت سنجیدہ ہیں۔‘‘ برائن مینٹل کی گاڑی اسی لیے کرکٹ کھیلنے کے سامان سے لدی ہوئی ہے۔

مینٹل کا کہنا ہے کہ کرکٹ کا کھیل نہ صرف مہاجرین کی توجہ پریشانیوں سے ہٹانے کے لیے اہم ہے بلکہ جرمن اور دیگر قومیتوں کے ساتھ ایک ہی ٹٰیم میں کھیلنا مہاجرین کے لیے جرمن زبان سیکھنے اور ان کے سماجی انضمام میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

جرمن کرکٹ ٹیم اس وقت بین الاقوامی سطح پر 37ویں نمبر پر ہے لیکن مینٹل کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی آمد کے بعد سے جرمنی میں کرکٹ کا کھیل تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ جرمن کرکٹ ایسوسی ایشن کے اس واحد مستقل رکن کا کہنا ہے کہ پانچ سال پہلے جرمنی بھر میں محض 70 ٹیمیں تھیں جب کہ اس وقت دو سو سے زائد ٹیمیں باقاعدگی سے یہ کھیل کھیل رہی ہیں۔

آسٹریا نے پناہ کے سخت ترین قوانین متعارف کرادیے

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

DW.COM