مہاجرین کی آمد سے جرمن معیشت کو فائدہ | مہاجرین کا بحران | DW | 29.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی آمد سے جرمن معیشت کو فائدہ

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مہاجرین کی جرمنی آمد سے اس ملک کی اقتصادیات پر ضرب پڑے گی، حالاں کہ اعداد و شمار تو بہ بتا رہے ہیں کہ اس سے معیشت کو فائدہ ہو رہا ہے۔

حال ہی میں جرمن اقتصادیات کے حوالے سے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال کے تیسرے کواٹر میں یورپ کی اس مضبوط ترین معیشت کی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ مہاجرین کی آمد، صارفین کی خریداری میں اضافہ اور ریاست کی طرف سے پناہ گزینوں کی امداد کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کو بتایا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جرمنی ایک ایسی معاشی طاقت بن رہا ہے جس کی توجہ صرف برآمدات پر نہیں ہے بلکہ وہ مقامی طور پر بھی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ معیشت دان کارسٹین برسیزکی کہتے ہیں: ’’جرمن معیشت بالآخر وہ بن گئی ہے جس کا مطالبہ بین الاقوامی ناقدین کرتے رہے ہیں، یعنی ایک مقامی سطح پر متحرک معیشت۔ کم از کم سال کے تیسرے کوارٹر کی رپورٹ سے یہی معلوم ہوتا ہے۔‘‘

مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ علاقوں، بالخصوص عراق اور شام سے لاکھوں افراد یورپ پہنچ چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر مغربی اور شمالی یورپی ممالک میں پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دیگر یورپی ممالک کی نسبت مہاجرین کے بارے میں جرمن حکومت کی پالیسی خاصی نرم ہے۔ کئی لاکھ مہاجرین یہاں قیام کر چکے ہیں۔

جولائی سے ستمبر تک کے اعداد و شمار کے مطابق جی ڈی پی میں صفر اعشاریہ تین فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور نجی گھروں کے تصرف میں جولائی سے پہلے کے تین ماہ کی نسبت صفر اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ریاستی اخراجات میں ایک اعشاریہ تین فیصد اضافہ رونما ہوا ہے۔

امریکی ایجنسی ’اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز‘ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ یورپی صارفین بالآخر اپنے بٹووں کو ہلکا کر رہے ہیں، اور ایسا خاص طور پر جرمنی میں دیکھا جا رہا ہے۔

اقتصادی امور کے ماہر اسٹیفان کیپار کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت کی جانب سے مہاجرین کے لیے تیار کیے گئے منصویے اقتصادی حرکت کو تیز کر رہے ہیں، جو کہ ’’ایک چھوٹی مگر غیر متوقع پیش رفت ہے۔‘‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی حکمران جماعت سی ڈی یو سے وابستہ آرمِن لاسشیٹ نے حکومت کے منصوبوں کو جرمنی میں گزشتہ برسوں میں پیش کیے جانے والے بڑے منصوبوں میں شمار کیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے، جیسے کہ آئی ایم ایف، یورپی کمیشن اور یورو زون کے دیگر ممالک جرمنی سے یہی مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ اپنے اضافی سرمائے کو اس طرح خرچ کرے کہ اس کا فائدہ تمام یورپ کو ہو۔