1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی آمد سے اقتصادی بہتری، یونان پُرامید

دو دہائیاں قبل جب یونان میں ایک ساتھ قریب نصف ملین تارکین وطن پہنچے تھے، تو اس ملک کی معیشت میں نہایت تیزی سے ترقی دیکھی گئی تھی، اب حکومت اور ماہرین مہاجرین کی نئی لہر سے بھی ایسی ہی توقعات وابستہ کر رہے ہیں۔

یونان میں اس وقت قریب ساٹھ ہزار تارکین وطن موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر نوجوان ہیں اور ان کا تعلق شام، افغانستان اور پاکستان سے ہے۔ یہ افراد مغربی یورپ پہنچنے کے لیے یونان میں داخل ہوئے تھے، تاہم بلقان کی ریاستوں کی جانب سے سرحدین بند کر دیے جانے پر یونان ہی میں پھنس کر رہے گئے۔ اب یہ مہاجرین یونان بھر میں قائم متعدد مہاجر بستیوں میں مقیم ہیں۔

سن 1990 کی دہائی اور پھر 2000ء کی دہائی کے اوائل میں جب البانیہ اور بلغاریہ جیسے ممالک سے لاکھوں افراد یونان پہنچے، تو وہاں زبردست اقتصادی تیزی دیکھی گئی۔ مگر اس بار اب تک یونان ملک میں داخل ہونے والے مہاجرین سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا پایا۔

ایتھنز کی زرعی یونیورسٹی سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر اسٹاوروس زوگرافاکِس کے مطابق، ’’جو مہاجرین اب یہاں آئے ہیں، وہ مختلف ہیں۔ کیوں کہ ان میں سے زیادہ تر اب بھی اس کوشش میں ہیں کہ وہ کسی طرح مغربی یا شمالی یورپ پہنچیں اور ان کی ایسی کوئی خواہش نہیں کہ وہ یونان میں رکیں۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قریب بیس برس قبل جب یونان میں پانچ سے چھ لاکھ مہاجرین آئے تھے، تو وہ فوراﹰ ہی یونانی معاشرے میں گھل مل گئے تھے، وہاں انہوں نے زراعت اور تعمیراتی شعبے میں ملازمتیں کیں اور رچ بس گئے، مگر اب ایسا نہیں۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2000ء کی دہائی کے آغاز میں یہ مہاجرین یونان کی مجموعی قومی پیداوار کے قریب تین فیصد حصے کا باعث بننا شروع ہو گئے تھے۔ سن 2004ء کے اولمپکس کے لیے یونان میں متعدد تعمیراتی پروجیکٹس جاری تھے اور یونان سن 2001ء میں یورپی مالیاتی اتحاد میں بھی شامل ہو گیا تھا۔

Griechenland Flüchtlinge protestieren in Thessaloniki (picture alliance/dpa/NurPhoto/E. Economou)

یونان میں ہزاروں مہاجرین موجود ہیں

مگر اب حالت مختلف ہے کیوں کہ یونانی اقتصادی صورت حال بری ہے اور وہ پچھلے سات برسوں سے قرضوں کے بحران اور بچتی اصلاحات سے گزر رہا ہے۔ حالاں کہ یورپی یونین نے اسے اربوں یورو مہیا کیے ہیں، تاہم مہاجرین کے سنگین بحران اور خصوصاﹰ انہیں رہائش مہیا کرنے کے اقدامات کی وجہ سے اقتصادی حالت اب بھی ’منفی‘ ہی دکھائی دے رہی ہے۔

ایتھنز میں قریب ایک ملین یورو، جس میں یورپی یونین کی جانب سے مہیا کردہ سرمایہ بھی شامل ہے، مہاجرین کے لیے ایک ہاؤسنگ پروگرام کی مد میں خرچ کیے گئے ہیں۔ اس سرمایے کے ذریعے یونان میں موجود مہاجرین کے لیے خوراک، بسوں کی ٹکٹوں اور اس پروگرام سے وابستہ تقریباﹰ سو افراد کی تنخواہوں کا انتظام کیا گیا ہے۔

ایتھنز کے نائب میئر لیفتیریس پاپاجیاناکِس کے مطابق اس سرمائے سے مقامی معیشت پر براہ راست اثر پڑا ہے، تاہم طویل المدتی اعتبار سے مہاجرین کے انضمام اور سماجی طور پر ان کے لیے مضبوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا تاہم خیال ہے کہ موجودہ مسائل اپنی جگہ لیکن رفتہ رفتہ مہاجرین کی وجہ سے اقتصادی طور پر تیزی پیدا ہو گی اور ملک میں موجود یہ تارکین وطن ’جرمنی کی طرح کے‘ اقتصادی استحکام اور ترقی کا باعث بنیں گے۔

مبصرین کے مطابق مہاجرین کے فوری معاشرتی انضمام کے اقدامات اور ایک باقاعدہ حکمتِ عملی وضع کر کے اقتصادی ترقی کی راہ ہم وار کی جا سکتی ہے۔