1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے یورپ لیبیا کے ساتھ کام کرے گا

جمعے کے روز مالٹا میں ہوئے یورپی یونین کے رہنماؤں کے ایک اجلاس میں لیبیا میں سرگرم انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی اور اس شمالی افریقی ملک سے مہاجرین کی یورپ آمد کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

شمالی افریقی ملک لیبیا معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے اور ان کی ہلاکت کے بعد ہی سے لاقانونیت کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں اب مختلف ملیشیاؤں کا قبضہ ہے اور مہاجرین کے بحران سے فائدہ اٹھانے والے انسانوں کے اسمگلر بھی سرگرم ہیں۔ یہ اسمگلر یورپ پہنچنے کے خواہش مند افراد کو لیبیا سے بحیرہ روم کے راستے جنوبی یورپی ساحلوں تک پہنچاتے ہیں۔ جمعے کے روز یورپی ملک مالٹا میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کا موضوع یہی تھا کہ کس طرح لیبیا سے یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد کو کم کیا جا سکے۔ اس کے لیے یورپی رہنماؤں نے لیبیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیبیا سے مہاجرین کی آمد کو روکنے کی ایک وجہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرنا بھی ہے۔ مہاجرین کے بحران کے آغاز سے لے کر اب تک ہزاروں افراد کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش میں سمندر برد ہو چکے ہیں۔ جمعہ تین فروری کو ہونے والے اجلاس میں اس حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

لیکن یورپی یونین کے اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں کے اطلاق اور ان کی کامیابی کا انحصار لیبیا کے حکم رانوں پر بھی ہے۔ ملک کے ساحلی علاقوں پر بارڈر گارڈز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لیبیا میں دو متحارب حکومتیں بہ یک وقت کام کر رہی ہیں، اور کئی ملیشیائیں مختلف علاقوں پر قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال میں یورپی یونین کا لیبیا کے ساتھ مل کر کام کرنا یا وہاں کے حکم رانوں سے اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کو ممکن بنوانا خاصا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم اجلاس میں شریک اطالوی وزیر اعظم جینٹیلونی پرامید ہیں۔ ’’ہم جانتے ہیں کہ کوئی معجزہ رونما نہیں ہوگا، تاہم ہم بہتری کی توقع کر رہے ہیں۔‘‘

گزشتہ روز اطالوی وزیر اعظم نے اپنے لیبیائی ہم منصب فائز السراج کے ساتھ غیرقانونی مہاجرین کے یورپ کی جانب سفر کرنے کے سنگین معاملے کو خاص طور پر میٹنگ کا حصہ بنایا تھا۔ ملاقات کے بعد ایک مفاہمت کی یاداشت پر بھی دست خط کیے گئے اور اس کا تعلق بھی لیبیا کے مختلف علاقوں سے بحیرہ روم کے راستے یورپ آنے والے غیرقانونی مہاجرین کی حوصلہ شکنی سے تھا۔ اس یاداشت میں یہ بھی طے کیا گیا کہ روم حکومت لیبیا کے اداروں کو مضبوط کرنے میں بھی عملی تعاون کرے گی۔

کوسٹ گارڈز کی تربیت کے پروگرام کے علاوہ بحیرہ روم میں مہاجرین کی کشتیوں کو قابو میں کرنے کا بحری مشن ’صوفیہ‘ بھی جاری ہے۔ اٹلی کی جانب سے لیبیا کی حکومت کی ملکی سرحدوں کے کنٹرول میں رہنمائی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

ویڈیو دیکھیے 03:43

افغان مہاجرین کی جرمنی سے جبری واپسی کا عمل شروع

Audios and videos on the topic