1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے اٹلی کی بھرپور میڈیا مہم

اطالوی حکومت نے بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کو اس سفر کے خطرات سے آگاہ کرنے اور انہیں روکنے کے لیے ایک بھرپور میڈیا مہم شروع کر دی ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی اطالوی دارالحکومت روم سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اٹلی کی جانب سے بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو اس سفر میں خطرات سے آگاہ کرنے اور انہیں ایسے راستے اختیار نہ کرنے کے لیے قائل کرنے کے لیے آج اٹھائیس جولائی بروز جمعرات ایک بھرپور میڈیا مہم شروع کر دی ہے۔

ہزاروں پناہ گزین اپنے وطنوں کی جانب لوٹ گئے

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

اطالوی حکومت نے پندرہ لاکھ یورو کے خطیر بجٹ کے ساتھ شروع کی جانے والی اس مہم کا عنوان ’تارکین وطن خبردار‘ رکھا ہے۔ مغربی اور شمالی افریقہ کے پندرہ ممالک میں شروع کی جانے والے اس مہم کے لیے انٹرنیٹ، ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع ابلاغ زیر استعمال لائے گئے ہیں۔

اٹلی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی اکثریت انہی علاقوں سے خستہ حال کشتیوں میں سوار ہو کر بحیرہ روم کے راستوں کے ذریعے اطالوی ساحلوں تک پہنچتے ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران بحیرہ روم میں تارکین وطن کی کئی کشتیوں کو حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں سینکڑوں تارکین وطن سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

ویڈیو دیکھیے 01:27

تارکین وطن کے بارے میں پانچ اہم حقائق

روم حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اشتہاری مہم میں ایسے واقعات کی عکاسی کی گئی ہے اور تارکین وطن کو پیش آنے والے حادثوں کے تازہ اعداد و شمار بھی بتائے گئے ہیں۔

یہ مہم روم حکومت اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) کے اشتراک سے شروع کی گئی ہے۔ اطالوی وزیر داخلہ انجلینو الفانو کا کہنا تھا کہ یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ’اچھے مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے اس سفر پر نکلتے ہیں لیکن انہیں موت کے ڈراؤنے خواب کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔‘‘

اطالوی وزیر خارجہ نے مہم کا افتتاح کرتے ہوئے اس تارک وطن خاتون کا تذکرہ کیا جسے لیبیا میں اس کے خاوند کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا یورپ کا غیر قانونی سفر کرنے والے کئی تارکین وطن اپنے عزیزوں کی آنکھوں کے سامنے صحرا میں پیاس کی شدت سے یا پھر سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

اطالوی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کی پہلی ششماہی کے دوران دو لاکھ 71 ہزار تارکین وطن اطالوی ساحلوں تک پہنچ چکے ہیں۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

ویڈیو دیکھیے 03:23

مہاجر خاندان افغان، مسئلہ مشرقی، مسئلہ مغرب میں

DW.COM

Audios and videos on the topic