1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی آسٹریا نقل مکانی قبول نہیں: آسٹرین وزیر دفاع

آسٹریا کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کو یورپی یونین کے مہاجرین کی منتقلی کے منصوبے کے تحت اٹلی سے تارکینِ وطن کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ اُن کے مطابق آسٹریا میں پہلے ہی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

Deutschland Österreich Grenze Bayern Flüchtlinge (Reuters/M. Rehle)

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ منتقل کیے جانے والے تارکین وطن کی تعداد پر ابھی تک بحث جاری ہے

آسٹرین وزیر دفاع ہانس پیٹر ڈوسکوسِیل نے ملکی خبر رساں ادارے اے پی ڈی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’جب تک غیر قانونی مہاجرت پر قابو نہیں پایا جاتا اور جب تک آسٹریا پہلے ہی سے مہاجرین کا بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ملک میں مزید تارکینِ وطن کے لیے پناہ کے کسی اضافی قانونی راستے کو اپنانا ممکن نہیں۔‘‘

پیٹر ڈوسکوسِیل وفاقی وزیر دفاع ہونے کے علاوہ آسٹریا کی مخلوط حکومت میں مہاجرین کے امور کے نگران وزیر بھی ہیں۔ وہ سن 2015 میں یورپی یونین کی جانب سے طے کیے گئے اُس معاہدے کے مخالف ہیں جو تارکین وطن کی نقل مکانی کے حوالے سے تھا۔ ویانا میں وزارتِ داخلہ کے مطابق اس منصوبے کے تحت اٹلی سے صرف مہاجر خواتین اور بچوں کو اُس کے شمالی پڑوسی ملک آسٹریا منتقل کیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ منتقل کیے جانے والے تارکین وطن کی تعداد پر ابھی تک بحث جاری ہے۔ آسٹریا میں سوشل ڈیمو کریٹس اور کنزرویٹوز دونوں مہاجرت کے مسئلے پر سخت گیر موقف کے حامل رہے ہیں۔ ڈوسِکوسل کا یہ بھی کہنا تھا کہ آسٹریا نے گزشتہ سال پناہ گزینوں کے چھتیس ہزار کیس نمٹائے ہیں جب کہ اٹلی نے سات گنا زیادہ  آبادی کا حامل ملک ہوتے ہوئے بھی اس سے محض تین گنا زیادہ یعنی قریب ایک لاکھ کیسوں کا سامنا کیا ہے۔

DW.COM