1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو یورپ میں محدود پناہ کی اجازت ملنا چاہیے، دلائی لامہ

تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے کہا ہے کہ یورپ نے بہت سے مہاجرین کو پناہ دی ہے لیکن ان مہاجرین کو مستقبل میں واپس اپنے وطنوں کو لوٹ کر اپنے اپنے آبائی ملکوں کی ترقی و تعمیر میں حصہ لینا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دلائی لامہ کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ مہاجرین کو آخر کار اپنے آبائی وطنوں کو لوٹ جانا چاہیے تاکہ وہ واپس جا کر ملکی تعمیر نو اور ترقی میں اپنا حصہ ادا کر سکیں۔



دلائی لامہ نے کہا، ’’جب ہم کسی مہاجر کو دیکھتے ہیں، بالخصوص کسی خاتون یا بچے کو تو مہاجرت کے حقیقی دکھ کا اندازہ ہوتا ہے۔‘‘ دلائی لامہ خود نصف صدی سے جلا وطنی کی زندگی بسر کرتے ہوئے بھارت میں پناہ گزین ہیں۔

اسّی سالہ دلائی لامہ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے افراد جو اچھے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ خوش قمست ہیں اور یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مہاجرین کا موجودہ بحران شدید تر ہو چکا ہے اور بے گھر لوگوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

جرمن اخبار ’فرنکفرٹر الگمائنے سائٹنگ‘ سے گفتگو میں دلائی لامہ کا یہ بھی کہنا تھا، ’’مثال کے طور پر جرمنی ایک عرب ریاست نہیں بن سکتا۔‘‘ مسکراتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ‘جرمنی تو جرمنی ہے‘۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے، جس سے انتظامی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

Indien Dalai Lama

دلائی لامہ خود نصف صدی سے جلا وطنی کی زندگی بسر کرتے ہوئے بھارت میں پناہ گزین ہیں

دلائی لامہ کا کہنا تھا کہ اخلاقی طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان مہاجرین کو صرف عارضی طور پر پناہ دی جانا چاہیے، ’’مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بعد ازاں یہ مہاجرین اپنے اپنے ممالک واپس جائیں اور وہاں تعمیر نو کے کاموں میں حصہ لیں۔‘‘

گزشتہ برس جرمنی میں 1.1 ملین مہاجرین اور تارکین وطن پناہ حاصل کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان مہاجرین میں مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ ملکوں شام اور عراق کے شہریوں کے علاوہ افغانستان، پاکستان اور دیگر ممالک کے باشندے بھی شامل تھے۔

دلائی لامہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ وہ اپنے آبائی وطن تبت جانا چاہتے ہیں، ’’اگر میری واپسی کی کوئی امید پیدا ہوئی تو شائد کچھ سالوں بعد میں تبت جاؤں گا۔ کم ازکم ایک چھوٹے سے دورے کے طور پر بھی، یہ میرے لیے خوشی کا باعث ہو گا۔‘‘