1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کو ڈوبنے سے بچانے کی کوشش‘ افغان مہاجر نے ڈرون بنا لیا

لیسبوس کے پتھریلے ساحل پر کھڑے مہدی صالحی اپنا ڈرون اڑانے کے لیے درست جگہ کا تعین کر رہے ہیں۔ یہ کوئی شوقیہ پرواز نہیں بلکہ سمندر میں بھٹکے بے یار و مددگار مہاجرین اور تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچانے کی ایک کوشش ہے۔

Deutschland Hannover CeBIT Drohnen

آج کے جدید دور میں کیمرے والے ڈرون عام صارفین کے استعمال میں بھی آ چکے ہیں

تینتیس سالہ ڈرون ایکسپرٹ مہدی صالحی افغانستان میں طالبان کے ظلم و ستم کی وجہ سے پندرہ برس قبل اپنا ملک چھورنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ وہ اب اُنہی سمندری راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کی مدد کرنا چاہتے ہیں، جن پُرخطر راستوں سے وہ سن دو ہزار ایک میں خود بھی اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر یونان پہنچنے تھے۔

DW.COM

مہدی کے مطابق اگر ان کا یہ پائلٹ پراجیکٹ کامیاب ہو جاتا ہے، تو اس سے بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ روم کے سمندری راستوں سے اٹلی یا یونان پہنچنے کی کوشش کرنے والے ہزاروں مہاجرین اور تارکین وطن کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ یہی دو اہم سمندری راستے ہیں، جہاں سے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد یورپ کا رخ کر رہی ہے۔

’ڈرون برائے مہاجرین‘ نامی منصوبے کے بانی مہدی کی کوشش ہے کہ بغیر پائلٹ کے ان طیاروں کی مدد سے سمندری پانیوں میں بھٹکنے والی مہاجرین کی کشتیوں کو سراغ لگایا اور انہیں فوری مدد پہنچائی جا سکے۔ آج کل امریکا میں مقیم مہدی نیو یارک کے ’پیرسنز اسکول آف ڈیزائن‘ میں جزوقتی طور پر لیکچرار کی ملازمت بھی کرتے ہیں۔ یورپ میں مہاجرین کے بحران کی شدت اور سمندر میں مہاجرین کی کشتیوں کے ڈوبنے کے واقعات کے بعد انہوں نے کچھ کرنے کی ٹھانی تھی۔

مہدی نے پیرسنز اسکول آف ڈیزائن کے فارغ التحصیل طلبہ اور فیکلٹی ارکان کی مدد سے اپنے ساتھی کرسٹن کیریش کے ساتھ مل کر ایک ایسا ڈرون تیار کیا ہے، جس کا لیسبوس کے سمندری پانیوں کے اوپر کامیاب تجربہ کیا گیا۔ انہوں نے اس ڈرون میں طاقتور کیمرے، انفراریڈ سینسرز اور ڈیٹا شیئرنگ پوائنٹس کے ساتھ ایک ویب پلیٹ فارم تخلیق کیا ہے۔

اس ڈرون کے انفراریڈ سگنلز اور کیمروں کی فوٹیج براہ راست ایسی ویب سائٹس اور موبائل ڈیوائسز پر نشر کی جا سکتی ہے، جو ساحلی محافظوں، امدادی کارکنوں اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے مخصوص ہیں۔

اس پائلٹ پراجیکٹ کے خالق مہدی کے بقول ضروری نہیں کہ ڈرون طیارے جنگوں کے دوران ہی استعمال کیے جائیں بلکہ یہ مشترکہ بھلائی کے لیے بھی استعمال کیے جانا چاہییں، ’’آج کل ہمارے پاس جو ٹیکنالوجی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کسی کو سمندر میں ڈوب کر ہلاک نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

مہدی نے بتایا کہ جب سن دو ہزار ایک میں انہوں نے اپنے مہاجرت کے سفر کے دوران بحیرہ ایجیئن کو عبور کیا تھا، تو اس وقت انہوں نے کاغذ کے نقشوں سے مدد حاصل کی تھی، ’’سن دو ہزار سولہ میں نہ صرف اسمارٹ فون عام ہیں بلکہ ڈرون ٹیکنالوجی بھی عام شہریوں کی پہنچ میں ہے۔ اب سمندر میں پیش آنے والے ایسے مزید سانحوں سے بچا جا سکتا ہے۔‘‘

دوسری طرف لیسبوس کے قریب ہسپانوی ساحلی محافظوں کے ایک گروہ ’پرو ایکٹیوا‘ سے منسلک ایستھر کامپس کا کہنا ہے کہ مہدی صالحی کا منصوبہ معلومات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں امدادی کارکن بہتر انداز میں اپنا ریسکیو مشن شروع کر سکتے ہیں لیکن سمندر میں کسی جگہ پر بھٹکی ہوئی یا حادثے کا شکار ہو جانے والی کسی کشتی تک رسائی کے لیے پھر بھی کئی گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔

Libyen EU Flüchtlingskrise

رواں برس سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے مہاجرین کی تعداد تین ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے

مہدی صالحی کا کہنا ہے کہ وہ ایسے بڑے ڈرون بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، جو بحیرہ روم کے ایک بڑے حصے میں مشکلات کے شکار مہاجرین کی تلاش اور ریسکیو میں معاون ثابت ہو سکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں برس کے اختتام تک ایسا ایک بڑا پروٹو ٹائپ ڈرون تیار کر لیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مہدی فنڈز جمع کرنے کی کوششوں میں ہیں۔

اس وقت امریکا میں ڈرون ٹیکنالوجی کے ماہر تصور کیے جانے والے مہدی صالحی پندرہ برس قبل افغانستان سے ترکی پہنچے تھے، جہاں سے انہوں نے بحیرہ ایجیئن کے ذریعے یونان تک رسائی حاصل کی تھی۔ یونان میں پناہ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی پڑھائی کا سلسلہ شروع کیا اور سن دو ہزار گیارہ میں انہوں نے Volos یونیورسٹی سے آرکیٹیکچر میں ڈگری حاصل کی تھی۔

مہدی بعد ازاں امریکا چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے نیو یارک کے ’پیرسنز اسکول آف ڈیزائن‘ سے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی میں ایک اور ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ وہ اب ’پیرسنز‘ میں پارٹ ٹائم لیکچرار کے طور پر پڑھاتے بھی ہیں