1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو ملازمتیں دینے کا بیان، ’اسٹار بکس کی فروخت پر اثر انداز‘

اسٹار بکس کی طرف سے مہاجرین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے عہد کے بعد سے اس امریکی کافی چین کی فروخت میں بظاہر کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک سروے کے مطابق اسٹار بکس کی سیل میں کمی کی وجہ صارفین کے جذبات کو پہنچنے والی ٹھیس بنی ہے۔

اسٹار بکس کی طرف سے ہزاروں مہاجرین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے عہد کے بعد سے عالمی سطح پر مقبول اس امریکی کافی چین کی فروخت میں بظاہر کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسٹار بکس کی سیل میں کمی کی وجہ امریکی صارفین کے جذبات کو پہنچنے والی ٹھیس بنی ہے۔

تارکین وطن، مسلح گروہوں اور ٹرمپ کے احکامات کے درمیان پھنسے ہوئے

ٹرمپ کے ’زہریلے بیانات نے دنیا کو تاریک تر‘ کر دیا، ایمنسٹی
دو دنوں میں ٹرمپ کے لیے دوسرا بڑا عدالتی دھچکا

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے انتیس جنوری سے فیس بک، ٹوئٹر اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک مہم چلاتے ہوئے اسٹار بکس کے بائیکاٹ کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔ اس کی وجہ اسٹار بکس کے چیف ایگزیکٹیو  ہاؤورڈ شلٹس کا وہ بیان بنا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی کمپنی جن علاقوں میں بزنس کرتی ہے، ان علاقوں میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران دس ہزار مہاجرین کو ملازمتیں فراہم کرے گی۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا تھا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی حکم نامے کے تحت سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔ اس پیشرفت پر اسٹار بکس کے چیف ایگزیکٹیو ہاؤورڈ شلٹس اپنے ملازمین کو لکھے ایک خط میں کہا تھا کہ سول اور انسانی حقوق پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ ان کی کمپنی روایتی امریکی اقدار کا پرچار کرتی رہے گی۔

تاہم شلٹس کے اس بیان نے امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں کو ناراض کر دیا اور انہوں نے اسٹار بکس کے خلاف ایک مہم شروع کر دی۔ ری پبلکن پارٹی کے حمایتیوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسٹار بکس کا رخ نہ کریں۔ اس مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ انتیس جنوری تا تیرہ فروری کے دوران اس مشہور کافی چین کی فروخت میں بظاہر کمی واقع ہو گئی ہے۔

کمپنیوں کی طرف صارفین کے جذبات کا ریکارڈ رکھنے والی کمپنی YouGov BrandIndex کے انتیس جنوری کو شروع ہونے والی اس مہم کے نتیجے میں اسٹار بکس کی مقبولیت کا اسکور بارہ سے گر کر چار ہو گیا ہے۔ شلٹس کے مہاجرین سے متعلق بیان سے قبل اسٹار بکس سے خریداری کرنے والے تیس فیصد صارفین نے کہا تھا کہ وہ دوبارہ بھی اس کافی شاپ سے خریداری کریں گے تاہم مہاجرین کو ملازمتیں دینے کے اعلان اور پھر ٹرمپ کے حامیوں کی مہم کے نتیجے میں یہ شرح چوبیس پوائنٹس تک بھی پہنچ گئی تھی۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت چھبیس فیصد صارفین دوبارہ اسٹار بکس سے خریداری کرنا چاہتے ہیں۔

YouGov BrandIndex کے سی ای او ٹیڈ مارزیلی نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی کے اندازوں کے مطابق امریکا میں اسٹار بکس کی مقبولیت میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے، ’’یہ پیشرفت عندیہ دیتی ہے کہ مہاجرین کو ملازمتیں دینے کے بیان نے اس کمپنی پر منفی اثر مرتب کیا ہے اور مستقبل میں اس کافی چین کی فروخت مزید کم ہو سکتی ہے۔‘‘

ٹرمپ کے حامیوں نے اپنی مہم میں امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسٹار بکس کے بجائے اس کی حریف کمپنی ’ڈونکن ڈونٹس‘ سے خریداری کرے۔ تاہم ان دونوں کمپنیوں نے اس سروے اور بائیکاٹ کی وجہ سے اپنی فروخت پر پڑنے والے اثر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

 

DW.COM