1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کو متبادل سفری دستاویزات کے ذریعے ملک بدر کیا جائے‘

جرمنی سے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی ملک بدری کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سال رواں کے پہلے چھ ماہ کے دوران جرمنی سے محض ساڑھے بارہ ہزار افراد کو ملک بدر کیا جا سکا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے وفاقی جرمن وزارت داخلہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ رواں برس کی پہلی ششماہی کے دوران جرمنی بھر سے قریب ساڑھے بارہ ہزار غیر ملکیوں کو واپس ان کے آبائی ممالک میں بھیجا گیا۔ گزشتہ پورے سال کے دوران جرمنی سے ملک بدر کیے گئے تارکین وطن کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے کچھ زائد رہی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

جرمن حکومت نے افغان مہاجرین کی ملک بدری پھر روک دی

جرمنی میں کسے پناہ ملے گی اور کسے جانا ہو گا؟

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس برس کی پہلی ششماہی کے دوران جرمنی سے ملک بدر کیے جانے والوں کی تعداد گزشتہ برس کے اسی دورانیے سے بھی کم رہی ہے۔ 2016ء میں یکم جنوری اور تیس جون کے درمیانی عرصے میں جرمنی سے قریب چودہ ہزار افراد ملک بدر کیے گئے تھے۔

جرمنی کی وفاقی ریاستوں کے وزرائے داخلہ کی کانفرنس کے سربراہ اور صوبے سیکسنی کے وزیر داخلہ مارکوس اُلبِگ نے تجویز پیش کی ہے کہ ایسے تارکین وطن کو، جنہیں لازمی طور پر جرمنی سے ملک بدر کیا جانا ہے، ان کے ملکی پاسپورٹوں کی بجائے متبادل سفری دستاویزات کی مدد سے ملک بدر کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جرمنی سے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی ملک بدریوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے ایسے غیر ملکیوں کے آبائی وطنوں کی حکومتوں کے جاری کردہ پاسپورٹوں کی بجائے ان کے سفارت خانوں کی جاری کی گئی ایسی سفری دستاویزات استعمال میں لائی جائیں، جن کے خاتمے کی کوئی میعاد نہ ہو لیکن جنہیں صرف ایک بار یک طرفہ سفر کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اُلبِگ نے یہ بھی بتایا کہ اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:48

تربیت کے بعد مہاجرین کی ملک بدری ۔ جرمن کمپنیوں کی مشکل

دوسری جانب ایسے تارکین وطن، جنہیں جرمنی سے لازمی طور پر ملک بدر کیا جانا ہے، کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جرمنی میں مہاجرت اور تارکین وطن کے وفاقی ادارے (بی اے ایم ایف) کے مطابق اس برس کی پہلی ششماہی میں مزید اٹھارہ ہزار تارکین وطن کو لازماﹰ طور پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد ایسے تارکین وطن کی مجموعی تعداد سوا دو لاکھ سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

اس سال اب تک ایسے غیر ملکیوں کی تعداد میں بھی تئیس فیصد اضافہ ہوا ہے، جن کو جاری کی گئی ’ڈُلڈُنگ‘ یعنی ان کی جرمنی سے ملک بدری پر عائد عارضی پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے اور انہیں اب لازماﹰ جرمنی سے واپس اپنے آبائی وطنوں کو لوٹنا ہو گا۔ بی اے ایم ایف کے مطابق جرمنی میں مقیم ایسے تارکین وطن کی تعداد قریب سڑسٹھ ہزار ہے۔

جرمنی کی وفاقی ریاستوں کے وزرائے داخلہ کی کانفرنس کے سربراہ نے لازمی طور پر ملک بدر کیے جانے والے غیر ملکیوں کے جرمنی میں مزید قیام کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک اور تجویز دیتے ہوئے کہا، ’’ایسے غیر ملکیوں کو، جنہیں جرمنی میں قیام کا حق حاصل نہیں ہے، حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مالی معاونت بھی نہیں دی جانا چاہیے۔‘‘

جرمنی سے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی ملک بدریوں میں رکاوٹوں کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ان تارکین وطن کے آبائی ممالک ان کی وطن واپسی میں دلچسپی نہیں لیتے۔

پناہ کے یورپی قوانین، نیا لائحہ عمل

پاکستانی تارکین وطن کی واپسی، یورپی یونین کی مشترکہ کارروائی

DW.COM

Audios and videos on the topic