1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو قبول کرنا اٹلی کی ذمہ داری نہیں، اطالوی وزیراعظم

اطالوی وزیراعظم ماتیو رینزی نے جمعے کے روز تارکین وطن سے متعلق اپنے موقف میں سختی لاتے ہوئے کہا ہے کہ تارکین وطن کو قبول کرنا اٹلی کی اخلاقی ذمہ داری نہیں ہے۔

سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں رینزی کا یہ بیان اس بابت اطالوی حکومت کے موقف میں سختی کی عکاسی کرتا ہے۔ حکمران جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ تارکین وطن کو قبول کرنے کی ذمہ داری اٹلی  پر عائد نہیں ہوتی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ رینزی تارکین وطن اور مہاجرین سے متعلق دائیں بازو کی جماعتوں کو خوش کرنے اور ایک برس بعد ہونے والے انتخابات میں عوامی حمایت کے حصول کے لیے اپنے موقف میں سختی لا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اٹلی میں آئندہ انتخابات میں مہاجرین اور تارکین وطن کے بحران کو کلیدی اہمیت حاصل رہے گی۔

رینزی نے ایک نئی کتاب لکھی ہے، جس کے کچھ حصے ڈیموکریٹک پارٹی کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں رینزی کا کہنا ہے، ’’ہمیں خود کو افسوس کے احساس سے علیحدہ کرنا چاہیے۔ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ ہم تارکین وطن کو خوش آمدید کہتے پھریں۔‘‘

Süditalien Wanderarbeiter - Flüchtlingslager (DW/A. Pagani)

اٹلی میں تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے

اپنے تبصرے میں رینزی نے تارکین وطن کی اٹلی آمد کی حد مقرر کرنے کا بھی کہا تھا۔ تاہم اس بات کی حساسیت کے تناظر میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ویب سائٹ سے رینزی کے یہ تبصرے کچھ ہی دیر بعد ہٹا لیے گئے۔ تاہم اس بیچ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کی جانب سے اپنی جماعت پر شدید تنقید سامنے آئی۔

مہاجرین مخالف جماعت نادرن لیک پارٹی کے رہنما ماتیو سالوینی نے ڈیموکریٹک پارٹی کی ویب سائٹ سے ماتیو رینزی کے مٹائے گئے تبصرے کو اپنے ٹوئٹر پیغام میں شیئر کیا۔

ان کا کہنا تھا، ’’اس کام کا شکریہ، ہم اسے قبول کرتے ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’وہ شاید اس پر شرم سار ہو گئے مگر ہم جلد سے جلد اس پر عمل چاہتے ہیں۔‘‘