1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو طبی مدد کی ضرورت بھی ہے، عالمی ادارہ صحت

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کی ایک اعلیٰ عہدے دار کے مطابق سرد موسم میں کھلے آسمان تلے یا سرد خیموں میں رہنے والے پناہ گزینوں میں ہائپوتھرمیا اور دیگر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی یورپی شاخ کی سربراہ ژوژانا یاکب نے کہا ہے کہ ان مہاجرین میں شدید سردی کے باعث پیدا ہونے والے امراض بڑھنے کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان بیماریوں میں ہائپوتھرمیا اور فراسٹ بائٹ جیسی جان لیوا بیماریاں بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ اب بھی ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین مغربی یورپ کے راستے پر گامزن ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین کا تعلق نسبتاﹰ گرم علاقوں سے ہے اور یورپ کا موجودہ موسم بھی ان کے لیے کافی سرد ہے۔ پناہ گزینوں کی اکثریت کے پاس سردی سے بچاؤ کے لیے گرم لباس اور خیمے موجود نہیں ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہنگری کی سرحدیں بند ہونے کے بعد مغربی یورپ کے سفر پر روانہ مہاجرین کا راستہ بھی مزید طویل ہو چکا ہے۔ پناہ گزین اب کروشیا اور سلووینیا کے راستے سے آسٹریا پہنچ رہے ہیں۔

یاکب نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ نہ صرف پناہ گزینوں کے لیے گرم رہائش، گرم کھانے اور مناسب لباس کا بندوبست کریں بلکہ اس کے علاوہ انہیں زکام کے خلاف ویکسین بھی دی جائے۔

خبر رساں ادارے اے پی سی کی گئی اپنی ایک گفتگو میں ژوژانا یاکب کا یہ بھی کہنا تھا کہ مغربی ممالک کے حکام موسم سرما کے آغاز سے قبل مہاجرین کا طبی جائزہ لینے کا بندوبست کریں۔

DW.COM