1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کو زبان سکھاؤ، کام دو، معاشرے میں ضم کرو‘

برلن نوئے کولن کی میئر فرانزسکا گیفی نے تارکین وطن کے بارے میں طویل مدتی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے توجرمنی میں متوازی معاشرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

فرانزسکا گیفی کا کہنا تھا کہ پناہ گزیوں کے معاشرتی انضمام کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کرتے وقت یہ خیال بھی رکھنا ہو گا کہ ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کو دہرایا نہ جائے۔

گیفی کا کہنا تھا کہ فی الوقت تمام وسائل صرف پناہ گزینوں کو رہائش فراہم کرنے پر صرف کیے جا رہے ہیں۔ لیکن ان سب باتوں سے ضروری امر یہ ہے کہ تارکین وطن کے جرمنی میں انضمام کے لیے منصوبہ بندی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی گیفی کا کہنا ہے کہ معاشرتی انضمام کے لیے کیے جانے والے اقدامات تارکین وطن کو ’بوریت اور مایوسی سے نکالنے‘ کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ آنے تک تارکین وطن کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران انہیں کام کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی جو معاشرتی انضمام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

گیفی میئر نے سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے،’’اگر تارکین کو جلد از جلد جرمن معاشرے میں شامل نہ کیا گیا تو جرمنی میں ایک متوازی معاشرہ پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘

برلن جرمنی کے ان تین بڑے شہروں میں شامل ہے جنہیں ریاست کا درجہ حاصل ہے۔ نوئے کولن کا شمار برلن کے تاریخی، گنجان آباد اور کثیر الثقافتی علاقوں میں ہوتا ہے۔ سوا تین لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل اس علاقے نے گیفی کو رواں برس اپریل میں میئر کے عہدے کے لیے منتخب کیا تھا۔

فرانزسکا گیفی نے تسلیم کیا کے آغاز میں تارکین وطن کو سہولیات مہیا کرنے، معاشرتی انضام کے اقدامات کرنے اور انہیں زبان سکھانے کے لیے جرمنی کو کافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا، ’’اگر ہم نے فوری طور پر یہ اقدامات نہ کیے تو طویل دورانیے میں ہمارا خرچ مزید بڑھ جائے گا۔‘‘

Dr. Franziska Giffey

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی فرانزسکا گیفی برلن نوئے کولن کی میئر ہیں۔

نوئے کولن کی میئر کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے جرمن معاشرے میں انضمام کا عمل ان لوگوں کے ہاتھ نہیں دینا چاہیے جو جرمنی میں متوازی معاشرے کھڑے کرنا چاہتے ہیں۔

گیفی نے برلن کی مساجد کی تنظیموں کی جانب سے پناہ گزینوں کے معاشرتی انضمام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا، ’’ہمارے مشاہدے میں یہ بھی آیا ہے کہ شدت پسندی کو فروغ دینے والی مساجد، جن پر جرمنی کے خفیہ ادارے نظر رکھے ہوئے ہیں، بھی مہاجرین کو اپنے مقاصد کے لیے بھرتی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حرکتیں معاشرتی انضمام میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں۔

DW.COM