1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو ریسکیو کرنے والے بحری جہاز کی سرگرمیاں معطل

ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے بحیرہ روم میں مہاجرین کو ریسکیو کرنے کا مشن روک دیا ہے۔ ادارے کے مطابق مہاجرین کو بچانے میں مصروف سب سے بڑے بحری جہاز کو لیبیا کی جانب سے غیر ملکی بحری بیڑوں پر پابندی کے بعد روکا گیا ہے۔

لیبیا کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچانے کے مشن میں مصروف سماجی ادارے ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اعلان کیا ہے کہ ریسکیو مشن میں مصروف سب سے بڑے بحری جہاز کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

امدادی ادارے یا مہاجرین کو یورپ لانے کی ’ٹیکسی سروس‘؟

اس سماجی ادارے کے مطابق ریسکیو مشن ختم کرنے کا فیصلہ لیبیا کی حکومت کی جانب سے اپنی سمندری حدود میں غیر ملکی بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے لکھا، ’’بحیرہ روم میں سماجی تنظیموں پر سخت ہوتی پابندیوں اور یورپی یونین کی جانب سے لوگوں کو لیبیا میں محصور رکھنے کے عزم کے تناظر میں ہم نے اپنی سرگرمیاں روک دی ہیں۔‘‘

بحیرہء روم میں ہلاکتیں، یورپی یونین بھی ’شریکِ جرم‘

جمعرات کے روز لیبیا کی نیوی کے ترجمان جنرل ایوب قاسم کا کہنا تھا کہ لیبیائی سمندری حدود میں غیر ملکی بحری جہازوں پر پابندی کا ہدف وہ سماجی تنظیمیں ہیں ’جو بظاہر غیر قانونی تارکین وطن کو ریسکیو کرنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارروائیوں میں مصروف‘ ہیں۔

ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نامی اس فرانسیسی سماجی تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ بحیرہ روم میں دیگر ریسکیو آپریشنز میں معاونت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھی گی تاہم اس کا سب سے بڑا بحری جہاز کارروائیوں میں حصہ نہیں لے گا۔ اس بحری جہاز نے صرف مئی کے ایک مہینے میں پندرہ سو سے زائد تارکین وطن کو سمندر برد ہونے سے بچایا تھا۔

ادارے کی اطالوی شاخ کے صدر لوریس ڈے فلیپی نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’یورپی ریاستیں اور لیبیا کے حکام مشترکہ طور پر ان لوگوں کے راستے روک رہے ہیں جو تحفظ اور پناہ کے متلاشی ہیں۔ لوگوں کی زندگیوں اور ان کے وقار پر کیا گیا یہ حملہ ناقابل قبول ہے۔‘‘

حالیہ مہینوں کے دوران بحیرہ روم میں مہاجرین کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے سرگرم سماجی ادارے مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔ یورپی یونین کے کچھ رکن ممالک اور مہاجرین مخالف اطالوی سیاست دان ان ریسکیو مشنز کو ’مہاجرین کو یورپ پہنچانے کے لیے ٹیکسی سروس‘ بھی قرار دیتے رہے ہیں۔

اٹلی جانے والے مہاجرین کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

DW.COM