1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو روک کر ترکی یورپ میں ویزا فری انٹری کی راہ پر

یورپی یونین کے انتظامی دفتر کا کہنا ہے کہ ترک شہریوں کے لیے یورپی یونین کی رکن ریاستوں کے سفر کے لیے ویزا شرائط میں نرمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ترکی اور یورپی یونین کی مہاجرین کے حوالے سے ڈیل میں یہ نکتہ اہم تھا۔

مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان مہاجرین کے موضوع پر طے پانے والی ڈیل میں ترک شہریوں کے لیے یورپی یونین کے شینگن ممالک کے سفر کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کا نکتہ بھی شامل تھا۔ یورپی کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ ترک باشندوں کے لیے ویزا کی شرائط میں نرمی پر غور کر رہا ہے۔ اس سے قبل ترکی نے دھمکی دی تھی کہ اگر ترک شہریوں کے لیے یورپی ممالک کے سفر کے لیے پیشگی ویزے کی شرط ختم نہ کی گئی، تو وہ مہاجرین کے حوالے سے طے کردہ ڈیل پر عمل درآمد روک دےگا۔

28 رکنی یورپی یونین مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے انقرہ حکومت کے اقدامات پر بھروسہ کر رہی ہے، کیوں کہ گزشتہ برس یورپ پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین ترکی ہی سے بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یونان آئے تھے اور پھر بلقان کے ممالک سے گزر کر مغربی اور شمالی یورپ پہنچے تھے۔ ان مہاجرین کی تعداد ایک ملین سے زائد رہی تھی۔

Türkei Griechenland Abschiebung von Flüchtlingen

اس ڈیل میں ترکی کے لیے مراعات رکھی گئی ہیں

تاہم 79 ملین کی آبادی والے ملک ترکی کے لیے ویزے کے خاتمے کا معاملہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں کے درمیان اختلاف کی ایک وجہ بھی بنا ہوا ہے۔ برسلز میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ یورپی ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں، تاکہ یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کے مہاجرین کے سب سے بڑے بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے، جو ترکی کے ساتھ اس موضوع پر مذاکرات کا حصہ ہیں، بتایا کہ بدھ کے روز یورپی کمیشن ترک شہریوں کے لیے ویزا شرائط میں نرمی سے متعلق تجاویز سامنے لا سکتا ہے۔

یورپی یونین کے ایک اور ذریعے نے پیر کے روز بتایا تھا کہ اس موضوع پر یورپی کمیشن اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے، جب کہ اس پر فیصلہ بدھ کے روز کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل یورپی حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ترک شہریوں کے لیے ویزا شرائط میں نرمی سے متعلق 72 نکاتی شرائط انقرہ حکومت کو ارسال کی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ ترک حکومت ان شرائط پر عمل درآمد یقینی بنائے تاکہ ترک باشندوں کو ویزے کے بغیر یورپی یونین کے شینگن ممالک میں داخلے کی اجازت دی جا سکے۔