مہاجرین کو روکنے کے لیے ہنگری کو قلعہ بنا دیں گے، اوربان | مہاجرین کا بحران | DW | 26.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو روکنے کے لیے ہنگری کو قلعہ بنا دیں گے، اوربان

ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملکی سرحد پر نصب کی گئی خاردار تار کی جگہ قلعے جیسے دیوار قائم کر دیں گے، تاکہ کوئی مہاجر ہنگری میں داخل نہ ہو پائے۔

جمعے کے روز مہاجرین کے حوالے سے سخت ترین موقف کے حامل اوربان نے کہا کہ مہاجرین کو ہر حال میں ہنگری سے دور رکھا جائے گا۔ سرکاری ٹی وی چینل کو دیے گئے اپنے ہفتہ وار انٹرویو میں اوربان نے کہا، ’’اس سلسلے میں ہم تکنیکی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ اس وقت سرحد پر موجود باڑ کو ایک سنجیدہ اسٹرکچر میں تبدیل کیا جا سکے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس طرح ایک ہی وقت میں ہزاروں مہاجرین کو ہنگری میں داخلے سے روکنا آسان ہو جائے گا۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں مہاجرین کے بحران کے عروج پر ہنگری نے سربیا اور کروشیا کے ساتھ لگنے والی ملکی سرحد پر خار دار تار نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی راستے سے ابتدا میں لاکھوں مہاجرین نے مغربی یورپ تک کا سفر کیا تھا۔ مہاجرین یونان سے مقدونیہ کے ذریعے سربیا اور پھر ہنگری کے ذریعے آسٹریا پہنچ رہے تھے، جہاں سے ان کی اگلی منزل جرمنی یا شمالی یورپی ممالک تھے۔

اس خاردار تار کی تنصیب کے بعد ہنگری پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی، تاہم اوربان کے ناقدین مہاجرین کی تعداد میں کمی کو اوربان کے اقدامات کی بجائے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے کردہ ڈیل سے جوڑتے ہیں۔

Ungarn Premierminister Viktor Orban

اوبان مہاجرین کے سخت مخالف ہیں

عوامی سطح پر مہاجرین مخالف بیانات دینے والے اوربان، پولینڈ، سلواکیہ اور چیک ریپبلک کے ساتھ مل کر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین دوست پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے آئے ہیں۔

جمعے کے روز پولینڈ، سلواکیہ اور چیک ریپبلک کے رہنما وکٹور اوربان کے ہم راہ وارسا میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات کر رہے ہیں۔

جمعے کے روز اپنے بیان میں اوربان نے مہاجرین کی تقسیم سے متعلق یورپی یونین کے پروگرام کی مخالف کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا، ’’برسلز میں بیوروکریٹس چاہتے ہیں کہ مہاجرین کو قبول کر کے پورے یورپ میں پھیلا دیا جائے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ وہ، پولینڈ، چیک جمہوریہ اور سلواکیہ کے ساتھ مل کر اس اسکیم کی سخت مخالف کریں گے۔ اس حوالے سے ان کا یہ بھی کہنا تھا، ’’اب دیکھنا یہ ہے کہ انگیلا میرکل کس کے ساتھ ہے، برسلز کے ساتھ یا ہمارے ساتھ۔‘‘