1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو روکنے کے لیے لیبیائی کوسٹ گارڈز کی تربیت

یورپی یونین نے لیبیا کے کوسٹ گارڈز کی خصوصی تربیت کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس تربیت کا بنیادی مقصد بحیرہ روم سے یورپ کی جانب افریقی مہاجرین کی آمد کو روکنا ہے۔

لیبیا کےکوسٹ گارڈز کی تربیت کے دوسرے مرحلے کا آغاز پیر تیس جنوری سے ہو گیا ہے۔ کوسٹ گارڈز کی تربیت کا یہ پروگرام گزشتہ برس اکتوبر میں شروع کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز شمالی افریقہ کے مسلمان ملک لیبیا کے بیس کوسٹ گارڈز کی تربیت یونان کے جزیرے کریٹ میں شروع ہوئی۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی چیف فیڈیریکا موگیرینی کے مطابق اِس تربیت میں کھلے سمندر میں میری ٹائم قوانین کے نفاذ اور اِس عمل کے مختلف ضوابط کو استعمال کرنے کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اس تربیتی پروگرام کے دوران کوسٹ گارڈز کو انسانی حقوق کے علاوہ صنفی تفریق اور حقوق کے بارے میں آگاہی بھی فراہم کی جائے گی۔ بیان کے مطابق کوسٹ گارڈز کو سمندر میں مہاجرین کو روکنے اور اُن کو حادثہ پیش آنے کی صورت میں بچانے کی عملی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

اس تربیتی عمل کے پہلے مرحلے میں اٹہتر کوسٹ گارڈز کی تربیت اب آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ ٹریننگ رواں برس فروری میں مکمل ہو جائے گی۔ یورپی یونین کی کوشش ہے کہ لیبیا کے اندر پیدا شدہ خانہ جنگی جیسے حالات سے یورپ کی جانب مہاجرت کرنے والوں کو لیبیا کے کوسٹ گارڈز اپنے ملک کے قریب ہی روک لیں تا کہ یہ لوگ بحیرہ روم کو کمزور کشتیوں پر پار کرنے کا خطرہ مُول نہ لیں۔

Italien Bedford-Strohm besucht Marineschiff Werra (picture-alliance/dpa/M. Hadem)

یورپی یونین کے نگرانی کے مشن میں شامل فوجیوں کو خصوصی بریفینگ دی جا رہی ہے

گزشتہ برس ایک لاکھ اسی ہزار سے زائد افریقی مہاجرین نے بحیرہ روم کو پار کرنے کے خطرناک سفر کو اختیار کیا اور ان میں سے پانچ ہزار کے قریب سمندربُرد ہو گئے۔ یونان پہنچنے والوں کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد تھی۔ غیرقانونی مہاجرین سے بھری کشتیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے یورپی یونین کی نگرانی کا بحری مشن ’’صوفیہ‘‘ بھی جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے یورپی کمیشن نے لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ کمزور یونٹی حکومت کے لیے بتیس لاکھ یورو کی امداد کا اعلان کیا تھا۔ یہ حکومت طرابلس میں قائم ہے لیکن ابھی اِس کی عملداری میں اضافہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس کے علاوہ اس حکومت کو قبائلی مسلح گروپوں کے عدم تعاون کے ساتھ ساتھ لیبیا کی پارلیمنٹ کی جانب سے پالیسی امور پر شدید اختلافات کا بھی سامنا ہے۔