1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو روکنے کے لیے سرحدی نگرانی فوج کے سپرد، آسٹریا

آسٹرین وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ روم سے اٹلی آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی نہ ہوئی تو ویانا حکومت عنقریب اطالوی سرحد پر ’بارڈر کنٹرول‘ متعارف کراتے ہوئے سرحدوں کی نگرانی فوج کے سپرد کر دے گی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق آسٹریا کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے شمالی افریقی ممالک سے اٹلی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی نہ ہوئی تو ویانا حکومت جلد ہی اٹلی سے متصل اپنی سرحدوں پر ’بارڈر کنٹرول‘ متعارف کرا دے گی۔

پاکستانی تارکین وطن کی واپسی، یورپی یونین کی مشترکہ کارروائی

مہاجرین کی آسٹریا نقل مکانی قبول نہیں: آسٹرین وزیر دفاع

آسٹریا کے وزیر دفاع ہانس پیٹر دوسکوذیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملکی حدود میں مہاجرین کی غیر قانونی آمد روکنے کے لیے سرحدوں کی نگرانی کے لیے فوج تعینات کر دی جائے گی۔ مقامی میڈیا کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں دوسکوذیل نے کہا، ’’مجھے توقع ہے کہ جلد ہی سرحدی نگرانی شروع ہو جائے گی اور اس سلسلے میں معاونت کے لیے ملکی فوج کی تعیناتی کی درخواست بھی جلد کی جائے گی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ سرحدی نگرانی شروع کرنے کی وجہ سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی میں بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد ہے۔ روم حکومت کے مطابق اٹلی میں مزید مہاجرین کو پناہ اور رہائش گاہیں فراہم کرنے کی گنجائش نہیں رہی اور اٹلی کی جانب سے مہاجرین سے متعلق سخت بیانات سامنے آنے کے بعد اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ بڑی تعداد میں تارکین وطن دیگر یورپی ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق آسٹریا نے رواں ہفتے اٹلی سے متصل سرحد کی نگرانی موثر بنانے کے لیے مزید ساڑھے سات سو فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

سن 2015 میں بلقان روٹ سے آنے والے تارکین وطن کو روکنے کے لیے آسٹریا نے ہنگری سے متصل سرحد پر بھی بارڈر کنٹرول متعارف کرایا تھا اور سرحد کو خاردار تاروں کی مدد سے بند کر دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق بحیرہ روم کے وسطی راستوں کے ذریعے رواں برس کے آغاز سے لے کر اب تک پچاسی ہزار سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن لیبیا سے اٹلی پہنچ چکے ہیں۔ اس عرصے کے دوران دو ہزار سے زائد تارکین وطن بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی ریفیوجی ایجنسی کے خصوصی مندوب برائے وسطی بحیرہ روم نے صحافیوں سے گفت گو کرتے ہوئے آسٹریا کے ان اقدامات کے بارے میں کہا، ’’یہ دیرپا نہیں ہیں۔ دوسرے یورپی ممالک کو اٹلی کا ساتھ دینا چاہیے اور مہاجرین کا بوجھ تقسیم کرنا چاہیے۔‘‘

پناہ کے لیے مسترد شدہ درخواستوں والے افراد اپنے وطن واپس جائیں، میرکل

مہاجرین کا بحران: یورپ کے خاتمے کا آغاز؟

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

DW.COM

Audios and videos on the topic