1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو روکنے والا بحری مشن انسانوں کی اسمگلنگ میں مددگار

جرمن حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ بحیرہ روم میں یورپی سرحدوں کی نگرانی پر مامور ’’آپریشن صوفیہ‘‘ نامی یورپی بحری مشن کی کارروائیوں سے مہاجرین کی آمد روکنے کے بجائے در اصل انسانوں کے اسمگلروں کی مدد ہو رہی ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی کی وفاقی حکومت نے بائیں بازو کی سیاسی جماعت کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یورپی سرحدوں کی نگرانی پر تعینات یورپی یونین کے ’’آپریشن صوفیہ‘‘ نامی بحری مشن سے دراصل مہاجرین کی آمد روکنے کی بجائے انسانوں کے اسمگلروں کی مدد ہو رہی ہے۔

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

برلن حکومت کے اس تحریری جواب کو ’’فُنکے میڈیا گروپ‘‘ نے شائع کیا جس میں لکھا گیا ہے کہ انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث گروہ ایک طریقہ کار کے تحت جانتے بوجھتے مہاجرین سے لدی کشتیاں سرحدی نگرانی پر مامور بحری بیڑوں کے قریب لاتے ہیں۔ اسمگلروں کے ان گروہوں کو معلوم ہے کہ نگران بحری جہاز ’’بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہنگامی طبی امداد مہیا کرنے کے پابند ہیں۔‘‘

جرمن حکومت نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایسی معلومات کے باعث ’’انسانوں کے اسمگلروں نے اپنا کاروبار کا طریقہ کار نئی صورت حال کے مطابق تبدیل کر لیا ہے۔‘‘

جون 2015ء میں شروع کیے گئے اس یورپی مشن میں جرمن بحری جہاز بھی شامل ہیں۔ بحیرہ روم میں تعینات ان بحری جہازوں کا مقصد انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی اور مہاجرین کی یورپ آمد روکنا ہے۔ 2015ء کے وسط سے لے کر اب تک جرمن بحریہ نے قریب ساڑھے نو ہزار تارکین وطن کو سمندر میں ڈوبنے سے بچایا جب کہ یورپی یونین کے دیگر ممالک کے بحری جہاز بھی 22 ہزار سے زائد مہاجرین کو بحیرہ روم میں ڈوبنے سے بچا چکے ہیں۔

اسی دوران 351 کشتیوں کو تباہ بھی کیا گیا جنہیں اسمگلر مہاجرین اور تارکین وطن کو پورپ کی سرحدی حدود میں میں پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے مالٹا میں منعقد ہونے والی یورپی سمٹ کے دوران یورپی سربراہان نے بحری راستوں کے ذریعے مہاجرین کی یورپ آمد روکنے کے لیے دس نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا تھا۔ اس منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ لیبیا کے ساحلی محافظوں کو معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ ملکی سمندری حدود ہی میں مہاجرین کی کشتیاں روک سکیں۔ علاوہ ازیں لیبیا میں مہاجرین کے کیمپ بنانے کے لیے بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔

جرمنی: طیارے آدھے خالی، مہاجرین کی ملک بدری میں مشکلات حائل

ویڈیو دیکھیے 01:35

سربیا کی شدید سردی میں پھنسے بے گھر تارکین وطن

Audios and videos on the topic