1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو دفنائیں کہاں؟ یونانی قبرستان بھر گئے

ہزاروں تارکین وطن بحیرہ ایجئین عبور کر کے روزانہ ہی یونانی جزیرے لیسبوس پہنچتے ہیں اور اس کوشش میں سینکڑوں ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ لیسبوس کے قبرستان بھر چکے ہیں اب سوال یہ ہے کہ تارکین وطن کو دفن کہاں کیا جائے؟

یونانی جزیرہ لیسبوس، یورپ میں پناہ کے متلاشی تارکین وطن کے لیے ایک اہم داخلی راستہ ہے۔ ترکی سے کشتیوں کے ذریعے خطرناک بحیرہ ایجئین عبور کر کے اب تک لاکھوں مہاجرین اس جزیرے پر پہنچے ہیں۔ اس مختصر مگر پُرخطر سمندری راستے میں رواں برس تقریباﹰ پانچ سو تارکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ مہینے کم از کم اسّی مہاجرین ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔ بدھ کی صبح یونانی کوسٹ گارڈز کو ایک عورت اور دو بچوں کی لاشیں ملیں۔ آج جمعرات کی صبح ہونے والے کشتی کے ایک اور حادثے میں مزید ایک بچہ ہلاک جب کہ ایک لاپتا ہو گیا۔

مقامی بلدیہ اور چرچ کے حکام نے اس ہفتے اعلان کیا کہ جزیرے کے قبرستانوں میں مزید افراد کو دفن کرنے کی گنجائش نہیں رہی اور اب ان کے پاس ان درجنوں لاشوں کو عارضی مردہ خانوں میں رکھنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ مہاجرین کی مدد کرنے والے ایک رضاکار نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکام جلد اس مسئلے کا حل تلاش کر لیں گے۔

مقامی بشپ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ نئے قبرستان کے لیے جگہ مختص کرنے کے عمل میں دو سے تین برس تک کا عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔ لیسبوس کے میئر کا کہنا ہے کہ وہ یونانی وزیراعظم الیکسِس سپراس کے سامنے یہ مسئلہ پیش کریں گے۔ سپراس جمعرات کے روز لیسبوس کا دورہ کر رہے ہیں۔ میئر کا کہنا تھا، ’’ہمیں قبرستان اور مردہ خانے کم پڑنے کا مسئلہ درپیش ہے، لیکن ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔‘‘

بدھ کے روز یونانی وزیر اعظم الیکسِس سپراس کا کہنا تھا کہ وہ ایسی یورپی قیادت کا حصہ ہونے پر ’شرمندہ‘ ہیں جو آئے روز ڈوبنے والے تارکین وطن کو بچانے میں ناکام ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں موت کے سفر پر نکلنے والے لوگوں کو روکنا ہو گا۔ انسانوں کی قربانیاں مغربی تہذیب کے لیے باعث شرمندگی ہیں اور اسے ختم کرنا ہو گا۔‘‘

Griechenland Flüchtlinge Lesbos

بحیرہ ایجئین کے مختصر مگر پُرخطر سمندری سفر کے ذریعے ترکی سے یونان پہنچنے کی کوشش میں رواں برس تقریباﹰ پانچ سو تارکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔

لیسبوس کے مردہ خانے میں مزید لاشیں رکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ مردہ خانے کے باہر کھڑے ایک مقامی اہلکار، کارونر نوشیوس نے بتایا، ’’آج صبح مزید پانچ لاشیں لائی گئی ہیں۔ اس المیے کو روکنا ہو گا۔‘‘ خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے نوشیوس نے بتایا کہ مردہ خانے کے بارہ میٹر لمبے سردخانے میں پچاس سے زائد لاشیں موجود ہیں جنہیں شناخت ہونے تک وہاں رکھا جائے گا۔ جب کہ مقامی قبرستان میں اسّی ایسے تارکین کو دفنایا گیا جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔

نوشیوس نے مزید بتایا، ’’جن لاشوں کی شناخت ہو جاتی ہے ہم ان کے اہل خانہ سے رابطہ کرتے ہیں جن کی مشاورت سے طے کیا جاتا ہے کہ مرنے والے کو اس کے آبائی وطن بھیجا جائے یا یونان میں ہی دفن کر دیا جائے۔ عموماﹰ اس عمل میں بہت وقت لگتا ہے۔‘‘

بدھ کے روز لیسبوس کے حکام نے تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سوگ بحیرہ ایجئین میں ڈوبنے والے تارکین وطن کی یاد میں منایا جا رہا ہے۔

DW.COM