1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کو جرمن سرحدوں سے لوٹایا جا سکتا ہے‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی اتحادی جماعت سی ایس یو کے سربراہ ہورست زیہوفر کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورت میں جرمنی کی سرحدیں بند کر کے مہاجرین کو سرحدوں سے ہی واپس لوٹایا جا سکتا ہے۔

وفاقی جرمن ریاست باویریا میں برسراقتدار کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے سربراہ اور صوبائی وزیر اعلیٰ ہورسٹ زیہوفر کا کہنا ہے کہ جرمنی میں دوبارہ سن 2015 جیسی صورت حال رونما نہیں ہونے دی جا سکتی۔

بلغاریہ میں پھنسے ہزارہا مہاجرین اور تارکین وطن

مسلح گروہ ’بریگیڈ 48‘ مہاجرین کو یورپ جانے سے روک رہا ہے

صوبہ باویریا کے پبلک نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زیہوفر کا کہنا تھا کہ جرمنی اور یورپ میں مہاجرین کی تعداد کم کرنے کے لیے مہاجرت کی وجوہات کا خاتمہ، یورپ کی بیرونی سرحدوں کی سخت نگرانی اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں مہاجرین کی منصفانہ تقسیم پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے۔ ان کا تاہم یہ بھی کہنا تھا کہ اگر مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے یہ طریقے کارگر ثابت نہ ہوئے ’تو جرمنی کی ملکی سرحدیں مہاجرین کے لیے بند کر دی جانا چاہییں‘۔

ویڈیو دیکھیے 01:50

مال بردار ٹرینوں میں چھپے مہاجرین کیسے پکڑے جاتے ہیں؟

سن 2015 میں لاکھوں مہاجرین کی جرمنی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے زیہوفر نے کہا، ’’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسی صورت حال دوبارہ رونما نہیں ہونا چاہیے اور پھر جب وقت آئے تو ہم پھر سے مہاجرین کے لیے ملکی سرحدیں کھول دیں۔‘‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے سن 2015 میں مہاجرین کے لیے ملکی سرحدیں کھول دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت جرمنی پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین اور تارکین وطن آسٹریا سے باویریا ہی پہنچے تھے جس کے بعد زیہوفر نے میرکل کے فیصلے پر شدید تنقید کرنا شروع کر دی تھی۔ تاہم زیہوفر کا اب کہنا ہے کہ جرمنی میں مزید مہاجرین کی کسی ممکنہ آمد کے بارے میں ان کی اور چانسلر میرکل کی حکمت عملی اور موقف ایک ہی ہے۔

زیہوفر نے جرمنی میں مہاجرین کی زیادہ سے زیادہ سالانہ حد دو لاکھ تک مقرر کر دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا جسے میرکل نے ایک سے زائد مرتبہ مسترد کر دیا تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے ہی زیہوفر نے اس مطالبے سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

اگلے ماہ جرمنی میں عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں جن میں میرکل چوتھی مرتبہ ملکی چانسلر منتخب ہونا چاہتی ہیں۔ سی ایس یو بھی باویریا کی پارلیمان میں اپنی حتمی اکثریت قائم رکھنا چاہتی ہے۔

زیہوفر کا آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے کہنا تھا، ’’ہمیں یہ بات یقینی بنانا چاہیے کہ ہم، سی ڈی یو اور سی ایس یو یعنی انگیلا میرکل اور ہورسٹ زیہوفر، مشترکہ طور پر جرمن عوام سے سن 2015 جیسی صورت حال نہ دہرائے جانے کا جو وعدہ کر رہے ہیں، اس وعدے کو عملی شکل دینے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کریں۔‘‘

منفرد اظہار تشکر: مہاجر کی بیٹی کا نام ’انگیلا میرکل محمد‘

اتحاد کے لیے مہاجرین کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ ختم

DW.COM

Audios and videos on the topic