1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کا نیا سیلاب‘، کیا اٹلی تیار ہے؟

لیبیا سے اٹلی کے لیے ’مہاجرت کا سیزن‘ ابھی شروع نہیں ہوا لیکن گزشتہ برس کے مقابلے رواں برس اس یورپی ملک پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ پریشانی بڑھتی جا رہی ہے کہ نئے مہاجرین کو کہاں رکھا جائے گا؟

شمالی افریقی ملک لیبیا سے اٹلی کا سمندری سفر کرنے والے مہاجرین زیادہ تر بہار کے موسم کا انتظار کرتے ہیں تاکہ بحیرہ روم کی تند و تیز لہریں کچھ تھم جائیں اور موسم بھی معتدل ہو جائے۔

یہ مہاجرین عموماﹰ غیر قانونی طور پر ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی یا پھر پرانی اور ٹوٹی پھوٹی کشتیوں کے ذریعے اس خطرناک سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

مہاجرین یہ بھی جانتے ہوتے ہیں کہ حادثات کا شکار ہو کر ان کا سفر سمندر کے بیچ ہی میں کہیں ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن یورپ پہنچنے کی خواہش موت کے خوف سے بڑھ کر معلوم ہوتی ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران فیدیریکا موگیرینی نے کہا ہے کہ اس برس پانچ لاکھ تک مہاجرین لیبیا سے اٹلی پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف فرانسیسی وزیر داخلہ کے اندازوں کے مطابق یہ تعداد آٹھ لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:04

اڈومینی کا مہاجر کیمپ ’ڈخاؤ کے اذیتی کیمپ جیسا‘

اطالوی وزارت داخلہ کے مطابق رواں برس کے دوران تیرہ ہزار آٹھ سو انتیس نئے مہاجرین کا اندارج کیا جا چکا ہے، جو انہی خطرناک سمندری راستوں سے ہوتے ہوئے اٹلی پہنچے ہیں۔

گزشتہ برس کی پہلی سہ ماہی کے دوران اٹلی پہنچنے والے ان مہاجرین کی تعداد دس ہزار پچھتر ریکارڈ کی گئی تھی۔

گزشتہ برس کے مقابلے میں مہاجرین کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ یورپی یونین کی رکن ریاستیں ابھی تک اس بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی جامع حکمت عملی تیار کرنے میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہیں۔

یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی مختلف ممالک میں منصفانہ تقسیم کے منصوبے پر بھی عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

اسی دوران متعدد یورپی ملکوں نے اپنی قومی سرحدوں کی نگرانی بھی سخت کر دی ہے۔ بلقان کی ریاستوں نے یونان سے متصل اپنی سرحدوں کو بھی بند کر دیا ہے، جس کی وجہ سے یونان میں مہاجرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ا

ب یونان پہنچنے والے مہاجرین کے لیے راستے بند ہو چکے ہیں اور وہ وہاں سے آگے دیگر یورپی ممالک کا سفر کرنے سے قاصر ہیں۔

اس صورتحال میں اٹلی کی کوشش ہو گی کہ اس برس افریقہ سے وہاں پہنچنے والے مہاجرین کے راستے بھی روک دیے جائیں۔ ناقدین کے مطابق روم حکومت کو ایسے خدشات بھی لاحق ہو سکتے ہیں کہ اٹلی پہنچنے والے مہاجرین موجودہ صورتحال میں دیگر یورپی ممالک نہیں جا سکیں گے اور ان کا تمام تر بوجھ اسے خود ہی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

تاہم اٹلی کی وزارت داخلہ نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ اس برس وہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی رکھتی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic