1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مہاجرین کا مسئلہ، بھوٹان اور نیپال مذاکرات کی بحالی پر متفق

بھوٹان اور نیپال کی حکومتیں بھوٹانی مہاجرین کی واپسی کے لیے معطل مذاکرات بحال کرنے پر آمادہ ہو گئی ہیں۔ یہ مذاکرات گزشتہ آٹھ برس سے تعطل کا شکار تھے تاہم اب دونوں ممالک نے اس حوالے سے مثبت پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔

نیپال کے وزیر اعظم جھلاناتھ کھنل

نیپال کے وزیر اعظم جھلاناتھ کھنل

جمعہ کو بھوٹانی وزیراعظم Jigme Y Thinley نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ ان کے نیپالی ہم منصب Jhalanath Khanal نے بھوٹانی مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے مذاکرات بحال کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ نیپال کا دورہ کرنے والے بھوٹانی وزیر اعظم نے کہا کہ اس مسئلے پر دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو گئے تھے تاہم اب معلوم ہو رہا ہے کہ یہ دو طرفہ تعلقات اب بہتری کی سمت رواں ہیں۔

کٹھمنڈو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھوٹانی وزیر اعظم جگمے وائے تھنلے نے مزید کہا کہ بھوٹان حکومت نیپال کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی خواہاں ہے۔ دوسری طرف نیپال کے وزیر اعظم جھلاناتھ کھنل کے مشیر نے صحافیوں کو بتایا،’ اطراف نے مذاکرات بحال کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے اور اس حوالے سے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے‘۔

بھوٹانی وزیر اعظم جگمے وائے تھنلے

بھوٹانی وزیر اعظم جگمے وائے تھنلے

مہاجرین کے معاملے پر دونوں ممالک کے تعلقات 1990ء سے ہی تناؤ کا شکار ہیں۔ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا تھا، جب نوے کی دہائی کے آغاز میں بھوٹانی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نیپال جانے پر مجبور ہو گئی تھی۔ اس وقت صدیوں سے بھوٹان میں بسنے والے نیپالی نسل کےقریب ایک لاکھ ہندؤں کو بھوٹان سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

عالمی کوششوں کے نتیجے میں قریب چالیس ہزار بھوٹانی مہاجرین نیپال واپس بھیجے جا چکے ہیں۔ 2008ء کے آغاز میں نیپالی حکومت نے مغربی ممالک، اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیموں کی مدد سے بھوٹانی مہاجرین کو واپس وطن بھیجنے کا کام شروع کیا تھا تاہم اب بھی قریب 75 ہزار مہاجرین کٹھمنڈو کے جنوب مشرقی علاقوں جھاپا اور مورنگا میں کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔

بھوٹان اور نیپال کی حکومتوں کے مابین مہاجرین کی واپسی کے معاملے پر 2003ء سے ہی اختلافات شروع ہو گئے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس وقت بھوٹانی حکومت کے ایک اعلیٰ وفد نے جب ان مہاجر کیمپوں کا دورہ کیا تھا تو لوگوں نے ان پر پتھراؤ کر دیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس