1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مہاجرین کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

دُنیا بھر میں سیاسی تعاقب اور ابتر حالات سے بچنے کے لئے 42 ملین انسان پناہ کی تلاش میں ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق اِن میں سے 26 ملین وہ ہیں، جو اپنے ہی وطن میں در بدر ہیں۔

default

عالمی رائے عامہ کی توجہ مہاجرین کی ابتر صورتِ حال کی طرف مبذول کروانے کے لئے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایماء پر سن 2001ء سے ہر سال بیس جون کو مہاجرین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ رواں سال اِس دن کو ’’گھر، نئے آغاز کے لئے ایک محفوظ مقام‘‘ کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔ اتوار کو اِس دن کے موقع پر امدادی تنظیموں نے خاص طور پر اِس بات پر زور دیا ہے کہ اِن مہاجرین کی بڑی تعداد کو خوراک اور طبی سہولتوں کی کمی کے سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔

Afghanische Flüchtlingsfamilie

پاکستان نے سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ٹیلی وژن چینل سی این این کے ساتھ گفتگو میں مہاجرین کے مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:’’بظاہر ہماری زندگیاں کتنے ہی آرام سے کیوں نہ گزر رہی ہوں لیکن ہم سب اِس لحاظ سے کمزور اور غیر محفوظ ہیں کہ ہم کسی بھی وقت جنگ، تنازعے، خشک سالی، سیلاب یا پھر قدرتی آفات کی زَد میں آ سکتے ہیں۔ مہاجرین کی مدد کرنا قومی حدود سے بالا ایک چیلنج ہے لیکن مَیں ایک منٹ کے لئے اِس موضوع پر بات کرنا چاہتی ہوں کہ امریکیوں اور امریکہ کے لئے اِس مسئلے کا کیا مطلب ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ تنازعات کے متاثرین اور مہاجرین کی مدد کا سب سے بڑا واحد ذریعہ ہے۔‘‘

جن ممالک نے سب سے زیادہ تعداد میں دوسرے ملکوں کے شہریوں کو پناہ دے رکھی ہے، اُن میں اب بھی پاکستان سرِ فہرست ہے، جہاں بدستور 1.8 ملین افغان شہری زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 1.1 ملین مہاجرین کے ساتھ شام دوسرے نمبر پر ہے، جہاں خاص طور پر عراق کے اُن باشندوں نے پناہ لے رکھی ہے، جو اپنے ملک میں جاری بد امنی سے تنگ آ کر گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ افغانستان کے سب سے زیادہ یعنی 2.8 ملین شہری دوسرے ملکوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں جبکہ عراق کے 1.9 ملین باشندوں کو پناہ کی تلاش میں دیگر ممالک کا رُخ کرنا پڑا ہے۔

Die italienische Küstenwache mit illegalen Einwanderern

مہاجرین کے ساتھ ناروا برتاؤ پر اٹلی کو تنقید کا سامنا ہے

اِس عالمی دن کے موقع پر صحافیوں کی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اُن بہت سے صحافیوں کی صورتحال کی طرف توجہ دلائی ہے، جنہیں گزرے مہینوں کے دوران اپنا اپنا وطن چھوڑنا پڑا ہے۔ اپنی نو صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں اِس تنظیم نے بتایا ہے کہ اِن صحافیوں کو حملوں اور قتل کی دھمکیوں کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے اور اِن کے لئے بین الاقوامی مدد ناکافی ہے۔

اِدھر اِس دن کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں نے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی جانب یورپی یونین کے طرزِ عمل کو ایک بار پھر ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ اِس سلسلے میں زیادہ کڑی تنقید کا نشانہ اٹلی کو بنایا گیا ہے، جس نے کچھ عرصے سے سیاسی پناہ کے متلاشیوں کی جانب ایک نئی اور متنازعہ پالیسی اختیار کی ہے۔ اِس نئی پالیسی کے تحت سمندر کے راستے اٹلی کے ساحلوں پر پہنچنے والے افراد کو فوری طور پر واپس روانہ کر دیا جاتا ہے۔ ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گُتیریس نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لئے کوئی مشترکہ حکمتِ عملی وضع کریں۔ اُنہوں نے اِس بات پر تشویش ظاہر کی کہ مصائب کے شکار انسانوں کے لئے یورپ پہنچنا مشکل تر بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM