1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا سماجی انضمام، اسمارٹ فون ایپلی کیشنز کے ذریعے

مہاجرین کے جرمن معاشرے میں انضمام کے لیے موبائل فون ایپلی کیشنز بنانے والے بھی سرگرم ہیں اور تارکین وطن کو روزمرہ کے معمولات میں مدد فراہم کرنے والی ’اسمارٹ فون ایپس‘ بنائی جا رہی ہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی فائدہ مند ہیں؟

تارکین وطن دوران سفر زیادہ تر فیس بُک اور ’واٹس ایپ‘ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ لیکن جرمنی آنے کے بعد انہیں روزمرہ زندگی میں معاونت فراہم کرنے کے لیے جرمنی میں بنائی گئی ایپلی کیشنز تارکین وطن کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔

علاقائی اداروں کی جانب سے بنائی گئی ایپلی کیشنز کے بعد اب جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے تارکین وطن و مہاجرین (بی اے ایم ایف) نے بھی ’اسمارٹ فون ایپ‘ جاری کر دی ہے۔

جرمن شہر ڈریسڈن کی دو آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے بنائی گئی Welcome App ’ویلکم ایپ‘ کو گزشتہ برس پندرہ ہزار سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا تھا۔ ویلکم ایپ جرمنی میں پناہ کی درخواست دینے کے طریقہ کار کے علاوہ جرمنی میں روز مرہ زندگی کے بارے میں معلومات بھی فراہم کرتی ہے۔

Deutschland Apps für Flüchtlinge

’ویلکم ایپ‘ کو گزشتہ برس پندرہ ہزار مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا

آؤگس بُرگ میں بنائی گئی اسی طرح کی ایک اور Integreat نامی ایپلی کیشن کے بارہ سو سے زائد صارفین ہیں۔ جرمنی میں گیارہ لاکھ سے زائد تارکین وطن آ چکے ہیں۔ اس تناظر میں تو یہ تعداد کافی کم معلوم ہوتی ہے۔ تاہم یہ بات بھی پیش نظر رکھی جانا چاہیے کہ دونوں مذکورہ ایپلی کشنز کو صرف ایک شہر کی سطح پر ہی شروع کیا گیا ہے۔

Speakfree نامی ایک میسنجر ایپلی کیشن ایسی بھی ہے جس کے ذریعے تارکین وطن اپنی زبان میں پیغام لکھ کر بھیجیں تو وہ اس کا ترجمہ خود بخود جرمن زبان میں کر دیتی ہے۔ کمپنی کے مطابق ماہانہ پندرہ ہزار سے زائد صارفین اس میسنجر سے مستفید ہو رہے ہیں۔

جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے تارکین وطن و مہاجرین (بی اے ایم ایف) نے بھی Ankommen نامی اسمارٹ فون ایپ متعارف کرائی ہے۔ تارکین وطن اس کے ذریعے پناہ کی درخواست دینے کے طریقہ کار اور جرمنی میں روز مرہ زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے تیار کردہ جرمن زبان سیکھنے کا ابتدائی کورس بھی بی اے ایم ایف کی پیش کردہ ایپلی کیشن میں موجود ہے۔ یہ ایپلی کیشن جرمنی میں نئے آنے والے تارکین وطن کے لیے ابتدائی ایام میں کافی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

علاوہ ازیں مہاجرین کے لیے رہائش اور نوکری کی تلاش اور روزمرہ ضرورت کی اشیاء حاصل کرنے کے لیے بھی مختلف آن لائن سہولیات دستیاب ہیں۔ home4refugees.org ویب سائٹ پناہ گزینوں کو مکان تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ ویب سائٹ تارکین وطن اور مکان مالکان کے درمیان براہ راست رابطہ کراتی ہے تاکہ وہ پیچیدہ دفتری طریقہ کار سے بچ سکیں۔

اسی طرح ankommen.eu ویب سائٹ استعمال کر کے مقامی افراد تارکین وطن کے لیے فرنیچر اور ضرورت زندگی کی دیگر اشیاء عطیہ کر سکتے ہیں۔

مہاجرین کے مدد کرنے والے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام ایپلی کیشنز اور آن لائن سہولیات سے تارکین وطن تب ہی مستفید ہو سکتے ہیں جب انہیں انٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔ فی الوقت پناہ گزینوں کے بہت کم مراکز میں مفت انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

DW.COM