1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا راستہ کیسے روکا جائے؟ اٹلی کا نیا منصوبہ

اطالوی حکومت کا ارادہ ہے کہ وہ بحیرہ روم میں لیبیا کی سمندری حدود میں متعدد بحری جہاز تعینات کر دے تاکہ شمالی افریقہ میں فعال انسانوں کے اسمگلروں کی کارروائیوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ اطالوی حکومت اگست کے اختتام تک لیبیا کی سمندری حدود میں اپنے بحری جہاز تعنیات کر دے گی۔ اس مقصد کی خاطر ممکنہ طور پر اٹھائیس جولائی بروز جمعہ ملکی کابینہ کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔ روئٹرز نے سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی مہاجرین کی یورپ آمد کا سلسلہ بھی روکا جا سکے گا۔

مہاجرین کے لیے سرحدیں بند نہیں کریں گے، اطالوی وزیر اعظم

بحیرہ روم کے ذریعے اسپین پہنچنے کا انتہائی خطرناک راستہ

اٹلی میں مہاجرین کی ’حد‘ مقرر کی جانا چاہیے، اطالوی وزیراعظم

سفارتی ذرائع کے مطابق کابینہ سے منظوری کے بعد آئندہ ہفتے کے دوران ملکی پارلیمان اس تجویز پر ووٹنگ کرے گی۔ ایک حکومتی اہلکار نے اپنا نام خفیہ رکھتے ہوئے روئٹرز کو بتایا، ’’اس مشن کی خاطر بحری جہازوں اور عملے کی تعداد کیا ہو گیِ؟ اس بارے میں بات چیت جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر منظوری ہو جاتی ہے تو اگست سے یہ مشن اپنا کام شروع کر دے گا۔

ویڈیو دیکھیے 01:11

بحیرہ روم میں مہاجرین کی کشتیاں ڈوبنے کے خوفناک مناظر

یہ امر ابھی واضح نہیں ہے کہ طرابلس حکومت اطالوی حکومت کے اس منصوبے کی حمایت کرے گی۔ تاہم اس سلسلے میں لیبیا کی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری جاری ہے۔

تاہم اطالوی وزیر اعظم نے جمعرات کے دن اعلیٰ فوجی حکام اور اپنے وزراء سے ملاقاتوں میں اس منصوبے پر مفصل گفتگو کی۔

بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کی تفصیلات جلد ہی جاری کر دی جائیں گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ابتدائی تجاویز مرتب کر لی گئی ہیں جبکہ اس پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

 

سن دو ہزار چودہ سے اب تک شمالی افریقہ سے اسی سمندری راستے سے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد چھ لاکھ کے قریب بنتی ہے۔

ان میں سے زیادہ تر نے مہاجرت کا اپنا سفر لیبیا کی سمندری حدود سے ہی شروع کیا تھا۔ ان مہاجرین یا تارکین وطن کو سمندر عبور کرانے میں انسانوں کے اسمگلر ہی مدد فراہم کرتے ہیں۔

سن دو ہزار گیارہ میں لیبیا کے سابق آمر معمر قذافی کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد یہ شمالی افریقہ ملک شورش کا شکار ہے۔ اسی سیاسی خلا کے باعث وہاں متعدد ملیشیا گروہوں کے علاوہ انسانوں کے اسمگلروں کا ایک نیٹ ورک بھی فعال ہو چکا ہے۔

اطالوی وزیر اعظم کے مطابق انہوں نے متعدد یورپی رہنماؤں سے مشاورت کی ہے اور وہ روم حکومت کے اس مجوزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic