مہاجرین کا بحران یورپ کی آہنی صلاحیتوں کی آزمائش ہے، میرکل | مہاجرین کا بحران | DW | 03.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا بحران یورپ کی آہنی صلاحیتوں کی آزمائش ہے، میرکل

رواں برس لاکھوں مہاجرین مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے مختلف ممالک سے غربت اور جنگوں کے باعث جرمنی اور دیگر مغربی ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ہفتہ وار ویڈیو پیغام میں کہا کہ یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کی سب زیادہ آمد کا سامنا ہے۔ یورپ کو اس عالمی مسئلے سے نبرد آزما ہونے کے لیے اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔اس بحران سے نمٹنے کے لیے یورپ کو اپنی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ ’’اور یقیناﹰ یورپ کے لیے اس کے معنی یہ ہیں کہ تمام یورپی ممالک کو مل کر یورپ بھر کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہو گی تاکہ یورپ میں امیگریشن کے عمل کو منظم کیا جا سکے۔‘‘

آج ہفتے کے روز جاری کیے گئے اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے مزید کہا، ’’اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں ایسے ممالک کے حوالے سے مزید ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے، جن ملکوں سے یہ پناہ گزین نکلنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔  اس کے علاوہ لبنان، اردن اور ترکی جیسے ان ممالک کی بھی مدد کرنا ہو گی، جہاں ان مہاجرین کی اکثریت نے پناہ لے رکھی ہے۔‘‘

Deutschland Flüchtling macht Selfie mit Merkel in Berlin-Spandau

میرکل کے مطابق مہاجرین کا بحران یورپ کے لیے ایک آزمائش ہے

رواں برس ترکی، اردن اور لبنان کے کیمپوں میں مقیم پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد نے بہتر مستقبل کی امید میں یورپ اور بالخصوص جرمنی کی طرف مہاجرت شروع کر دی ہے جس کے باعث یورپ میں بحرانی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ زیادہ تر مہاجرین کی منزل جرمنی ہے، جو معاشی طور پر یورپ کا سب سے مضبوط ملک ہے۔ جرمنی میں پناہ سے متعلق قوانین بھی نسبتاﹰ آسان ہیں اور مہاجرین کے لیے سہولیات بھی زیادہ ہیں۔

صرف گزشتہ ماہ جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد دولاکھ سے زیادہ تھی۔ یہ تعداد گزشتہ پورے برس جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ برلن حکام کے مطابق رواں برس کے اختتام تک آٹھ لاکھ سے زائد مہاجرین کی آمد متوقع ہے۔ فی الوقت مہاجرین کو ایک نظام کے تحت جرمنی کے مختلف شہروں میں موجود پناہ گزین کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث انتظامی اور معاشرتی مسائل کے اضافے کے علاوہ مہاجرین کے درمیان تصادم  کے مختلف واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔ تاہم حکومت اب پناہ کی درخواستوں کی جانچ سرحدوں پر ہی کرنے کے لیے نظام وضع کرنے کا عندیہ دے رہی ہے۔

ویڈیو پیغام میں انگیلا میرکل کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمنی کو پناہ کے متلاشی افراد تک یہ بات بھی واضح طور پر پہنچانا ہو گی کہ پناہ صرف ان لوگوں کو دی جائے گی، جنہیں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ محض اقتصادی وجوہات کی بنا پر جرمنی کا رخ کرنے والوں کو واپس ہی جانا پڑے گا۔ جرمنی میں نئے آنے والے پناہ گزینوں کے معاشرے میں انضمام سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’’بڑا کام‘‘ ہے اور عوام کو اس سلسلے میں پائے جانے والے خدشات کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔

مہاجرین ترکی سے یونان پہنچنے کے لیے کشتیوں کے ذریعے خطرناک سمندری راستہ اختیار کرتے ہیں۔ انگیلا میرکل نے اس حوالے سے بتایا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور اس کے بارے میں ترکی سے بات چیت کی ضرورت ہے، جو پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے۔ انہوں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کو فراہم کی جانے والی ترقیاتی امداد میں اضافے اور اقوام متحدہ کے ذریعے پناہ گزینوں کو زیادہ مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

DW.COM