1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا بحران: ہنگری کی کروشیا کے ساتھ سرحد بھی بند

یورپی یونین کے رکن ملک ہنگری نے مہاجرین کے بحران کے باعث اپنی ہمسایہ اور یونین کی رکن ایک اور ریاست کروشیا کے ساتھ اپنی سرحد جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب بارہ بجے سے بند کر دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

Ungarn, Flüchtlinge an der Grenze zu Kroatien

سرحد کی بندش کے اعلان سے قبل اسی راستے سے کروشیا سے ہزار ہا تارکین وطن ہنگری میں داخل ہوئے

بوڈاپسٹ سے جمعہ سولہ اکتوبر کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ہنگری نے کروشیا کے ساتھ اپنی اس سرحد کو، جہاں وہ حالیہ ہفتوں میں حفاظتی نقطہء نظر سے تیز دھار دھاتی باڑ بھی لگا چکا ہے، بند کرنے کا فیصلہ مجبوری میں لیکن بہت بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد کو روکنے کے لیے کیا۔

ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سِیّارتو نے بوڈاپسٹ میں آج ہونے والے قومی سکیورٹی کابینہ کے ایک اجلاس کو بتایا کہ آج (جمعہ سولہ اکتوبر) کو نصف شب (عالمی وقت کے مطابق رات دس بجے) سے ہنگری اور کروشیا کے درمیان ’گرین بارڈر‘ کو بند کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل ہنگری ایسا ہی اقدام کرتے ہوئے سربیا کے ساتھ بھی، جو یورپی یونین میں شامل نہیں ہے، اپنی سرحد کو بند کر چکا ہے۔ سربیا کے ساتھ ہنگری کی سرحد پندرہ ستمبر کو بند کی گئی تھی اور اس کے بعد مشرقی یورپ، خاص کر بلقان کے خطے کے راستے شمالی اور مغربی یورپ کے امیر ملکوں میں پہنچنے کے خواہش مند ہزار ہا مہاجرین اور تارکین وطن نے کروشیا سے ہوتے ہوئے ہنگری میں داخل ہونا شروع کر دیا تھا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ صرف اس سال کے دوران اب تک یونین کے رکن ملک ہنگری پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد تین لاکھ تراسی ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ صورت حال ملکی حکومت کے لیے شدید نوعیت کے انتظامی بحران کا سبب بن چکی ہے۔ یہ تمام تارکین وطن وہ غیر ملکی تھے، جو ہنگری سے صرف گزرنا چاہتے تھے اور مزید مغرب کی طرف جرمنی اور دیگر ملکوں میں سیاسی پناہ کے خواہش مند تھے۔

Ungarn, Soldaten an der Grenze zu Kroatien

ہنگری نے کروشیا کے ساتھ سرحد پر اونچی دھاتی باڑ لگانے کا کام ہنگامی بنیادوں پر اپنی فوج کے ذریعے مکمل کیا

ہنگری کے وزیر خارجہ سِیّارتو نے قومی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد بوڈاپسٹ میں صحافیوں کو بتایا، ’’گرین بارڈر کہلانے والی جو سرحد بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ وہی سرحد ہے، جسے مہاجرین اور تارکین وطن کی سب سے بڑی تعداد نے کروشیا سے ہنگری میں داخلے کے لیے استعمال کیا۔ اس سرحد کی بندش کے بعد دیگر باقاعدہ سرحدی گزر گاہیں معمول کے مطابق کام کرتی رہیں گی، لیکن وہاں سے گزرنے والوں کی سختی سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق سِیّارتو نے مزید کہا، ’’بوڈاپست حکومت نے یہ سرحد بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ یورپی یونین کی برسلز میں جمعرات سے لے کر جمعے کو علی الصبح تک جاری رہنے والی سربراہی کانفرنس میں اس بارے میں کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا کہ آیا یونان کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کے لیے، جو یورپی یونین کی بیرونی سرحدیں بھی ہیں، یورپی یونین کی کوئی مشترکہ فورس استعمال میں لائی جانی چاہیے۔‘‘

یورپی یونین کا رکن ملک ہنگری اس بلاک کے جنوب میں آزاد سرحدوں کے یورپی معاہدے شینگن میں شامل وہ آخری ملک ہے، جس کی قومی سرحدوں کے ایک حصے کے دوسری طرف یورپی یونین سے باہر کا خطہ شروع ہو جاتا ہے۔

DW.COM