1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہاجرین کا بحران: میرکل اور اولانڈ مربوط لائحہ عمل پر متفق

جرمن دارالحکومت برلن میں یورپ کو درپیش مہاجرین کے سنگین بحران کے تناظر میں چانسلر میرکل اور فرانسیسی صدر کے درمیان بات چیت ہوئی۔ بعد میں دونوں لیڈروں سے یوکرائنی صدر سے بھی ملاقات کی اور یوکرائنی تنازعے پر گفتگو کی۔

default

جرمن چانسلر میرکل اور فرانسیسی صدر اولانڈ

یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے جنگ زدہ علاقوں سے یورپ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی مسلسل آمد کے انتہائی سنگین بحران کا سامنا ہے۔ تنازعات کے علاقوں سے پناہ کی تلاش میں ہزاروں لوگ اپنی زندگیاں بچانے کی فکر میں ہیں۔ ان میں شام، عراق، صومالیہ، کینیا، وسطی افریقی جمہوریہ سمیت کئی اور ملک شامل ہیں۔ اِسی بحران کی سنگینی دیکھتے ہوئے جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ نے آج پیر کے روز برلن میں میٹنگ کی۔ اِس میٹنگ کے بعد دونوں لیڈروں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ ملاقات سے قبل چانسلر میرکل نے واضح کیا کہ اِس بحران سے نمٹنے کے لیے جرمنی اور فرانس ایک مربوط لائحہ عمل کی ضرورت پر متفق ہیں۔

صحافیوں کے ساتھ مختصر گفتگو میں فرانس کے صدر اولانڈ نے کہا کہ یورپ کو مہاجرین اور پناہ گزینوں کے معاملے کو حل کرنے کے لیے ایک متفقہ نظام متعارف کروانا ہو گا۔ اولانڈ نے مزید کہا کہ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے اور اِس کی سنگینی اور شدت کے ختم ہونے میں کچھ وقت درکار ہو گا۔ اولانڈ نے جرمنی کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ پناہ گزینوں کی مختلف یورپی ملکوں میں مناسب تقسیم کے حامی ہیں۔ جرمن چانسلر نے ملاقات سے قبل اپنے مختصر بیان میں کہا کہ جرمنی اور فرانس کی طرح یورپی یونین کی رکن دیگر ریاستیں بھی یونین کی موجودہ ریفیوجی پالیسی کا ساتھ دینے کی کوشش کریں گی اور اسی صورت میں ممکنہ حل تک پہنچا جا سکے گا۔

Deutschland Francois Hollande und Angela Merkel PK in Berlin

جرمن چانسلر میرکل اور فرانسیسی صدر اولانڈ میٹنگ کے کمرے کی جانب بڑھتے ہوئے

یہ امر اہم ہے کہ رواں برس کے دوران جرمنی کو آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی درخواستیں موصول ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ وہ اور فرانسیسی لیڈر یورپی یونین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں اور مہاجرین کے حوالے سے ریکارڈ مناسب انداز میں مرتب کرنے کا فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ محفوظ ملکوں کا تعین کرے گی اور پھر اُن ملکوں کو یہ پناہ گزین روانہ کیے جا سکیں گے۔ میرکل نے اٹلی اور یونان میں رجسٹریشن مراکز کی ضرورت پر ایک مرتبہ پھر زور دیا ہے اور رواں برس کے آخر تک یورپی یونین کی نگرانی میں اِن مراکز کو قائم کرنا ضروری خیال کیا ہے۔

جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر کی میٹنگ کے بعد دونوں لیڈروں نے یوکرائنی صدر کے ساتھ بھی ملاقات بھی کی۔ برلن میں فرانسیسی اور جرمن لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کرنے سے قبل یوکرائن کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے ایک مرتبہ پھر روس پر الزام لگایا کہ وہ روس نواز باغیوں کی مدد میں فوجی تعاون کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ سولہ ماہ کے دوران یوکرائنی تنازعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔