1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا بحران: مقدونیہ نے یونانی سرحد پر باڑ لگانا شروع کر دی

مقدونیہ کی فوج نے یونان سے ملحق سرحد پر لوہے کی باڑ لگانا شروع کر دی ہے، جس کا مقصد مہاجرین کے دباؤ کو قابو کرنا بتایا گیا ہے۔ اس دوران مہاجرین اور پولیس کی جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

غیرقانونی مہاجرین کو روکنے کے لیے مقدونیہ نے بھی یونان کے ساتھ جڑی اپنی سرحد پر خار دار باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ آج ہفتے کے روز سے یہ باڑ مقدونیہ کے فوجی اہل کاروں نے لگانی شروع کی ہے۔ یہ باڑ اُسی انداز میں لگائی جا رہی ہے، جس طرح ہنگری نے سربیا اور کروشیا سے ملحقہ سرحد پر لگا رکھی ہے۔ شامی، افغان، عراقی اور دوسرے ملکوں کے مہاجرین بلقان ریاستوں سے گزرتے ہوئے مقدونیہ اور یونان کی سرحد پر جمع ہو رہے ہیں۔ ان میں افغانی اور پاکستانی بھی شامل ہیں۔

مقدونیہ کی حکومت کے ایک ترجمان ایلیگزانڈر جورجی ایو کا کہنا ہے کہ باڑ صرف مہاجرین کو ’’کنٹرول کرنے کے لیے لگائی جا رہی ہے۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں، ’’ہم یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ سرحد کھلی رہے گی۔ ہم ان لوگوں کو راستہ دیں گے جو جنگ زدہ ممالک سے یہاں آ رہے ہیں۔‘‘

تاہم باڑ لگانے کے عمل کے دوران مہاجرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ پولیس اور مہاجرین کی جھڑپوں میں اٹھارہ سکیورٹی اہل کار زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک مہاجر باڑ کو ہاتھ لگانے کی وجہ سے زخمی ہو گیا ہے۔ جھڑپوں کی وجہ سے فوج کی متعدد گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔

نئے راستوں کی تلاش

مشرق وسطیٰ کے خانہ جنگی کا شکار ممالک سے ہزاروں کی تعداد میں افراد یورپی یونین کا رخ کر رہے ہیں جس کے باعث یورپ میں ایک بحران کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

ستمبر تک مہاجرین ترکی سے یونان اور پھر وہاں سے مقدونیہ اور سربیا سے گزرتے ہوئے یورپی ملک ہنگری میں داخل ہو رہے تھے۔ ہنگری اور سربیا کے درمیان سرحد کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تھا، جس کے بعد پناہ گزین کروشیا کے راستے ہنگری پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہنگری کی حکومت نے کروشیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بھی بند کر دیا تو مہاجرین نے نیا راستہ اختیار کر لیا۔ اب مہاجرین کروشیا سے سلووینیہ اور پھر وہاں سے آسٹریا پہنچ رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ سردی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہاجرین کی آمد کا سلسلہ بھی کم ہو جائے گا تاہم زمینی صورت حال توقعات کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ تر مہاجرین کی منزل جرمنی، سویڈن اور دیگر اسکنڈے نیوین ممالک ہیں۔ تارکین وطن کو اندیشہ ہے کہ ان کی منزل تک پہنچنے کے لیے یہ نیا راستہ بھی عنقریب بند ہو جائے گا۔

یہ ممالک مشرق وسطیٰ، بالخصوص شام اور عراق کے ان ہزاروں مہاجرین کے لیے عارضی پڑاؤ بھی ہیں جو کہ مغربی اور شمالی یورپی ممالک پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔

چند ماہ قبل آسٹریا نے بھی اپنی سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کی وجہ وزیر داخلہ یوہانا میکل لائٹنر نے یہ بتائی تھی: ’’خار دار تاریں لگانے کا مقصد چیزوں کو ترتیب میں رکھنا اور ملک میں مہاجرین کی آمد کو قابو میں رکھنا ہے۔ اس کا مقصد ہرگز سرحد کو بند کر دینا نہیں ہے۔‘‘

مبصرین کے مطابق مہاجرین کا مسئلہ بگڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ موسم سرما کی آمد ہے اور لوگوں کو شدید سردی میں ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔